خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 209 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 209

1940ء 209 خطبات محمود 66 66 اور کانگرس کا کام ورکنگ کمیٹی اپنے ہاتھ میں لیتی ہے۔ میں تو سمجھتا ہوں یہ سب کچھ گاندھی جی کے مشورہ سے ہی ہوا ہو گا انہوں نے کہا ہو گا کہ تم مجھے بڑھاپے میں لوگوں کے سامنے کیوں شرمندہ کرتے ہو میں ساری عمر لوگوں کو اہنسا ” کا سبق دیتا چلا آیا ہوں اب اگر میں نے ہی اس کے خلاف کہا تو لوگ مجھے کیا کہیں گے اس لئے بہتر یہی ہے کہ تم مجھے لیڈری سے سبکدوش کر دو اور خود جو چاہو پروگرام بنالو۔ وہ بھی جانتے ہیں کہ انہوں نے تو لڑنا ہی نہیں۔ لڑنا تو ملک کے دوسرے لو لوگوں نے ہے۔ پس ان ان کی علیحدگی سے کا لی سے کام کا نقصان تو کوئی ہو گا نہیں۔ چنانچہ انہوں نے کہہ دیا کہ بجائے اس کے کہ تم میرے منہ سے یہ کہلواؤ کہ اب “ اہنسا ” سے کام لینے کا وقت نہیں رہا تم مجھے “ اہنسا اہنسا کرنے دو اور خود ملکی دفاع کے لئے تلواریں جمع کرتے رہو۔ لوگ کہتے ہیں کہ گاندھی جی کامیاب لیڈ رہیں مگر یہ کون سی کامیابی ہے کہ ایک شخص ساری عمر اہنسا انسا” کا شور مچاتا رہتا ہے مگر جب اس کی عمر میں ہندوستان پر ایک ہی نازک وقت آتا ہے تو اس وقت سارے ہندوستان کے لوگ یہ کہنے لگ جاتے ہیں کہ اب “ اہنسا ” سے کام نہیں چل سکتا اور وہ اس بات پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ اہنسا کے خلاف آواز اٹھائیں اور ایک شخص بھی ایسا نہیں رہتا جو گاندھی جی کا ساتھ دے۔ فارورڈ بلاک والے پہلے ہی الگ تھے اب کا نگرس کا دوسرا حصہ بھی گاندھی جی سے الگ ہو گیا اور اس نے بھی علی الاعلان کہہ دیا کہ ہم یہ تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں کہ ہر حالت اور ہر زمانہ میں اہنسا سے کام لیا جا سکتا ہے بلکہ ملک کو جب بیرونی حملے کا خطرہ ہو تو اس وقت اس بات کی ضرورت ہوتی ہے کہ تلوار کا تلوار سے مقابلہ کیا جائے اور چونکہ اس اصول میں ہمیں گاندھی جی سے اختلاف ہے اس لئے ہم انہیں لیڈری سے سبکدوش کرتے ہیں اور تمام کام اپنے ہاتھ میں لیتے ہیں۔ گویا وہی تعلیم آگئی جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے لوگوں کے سامنے پیش فرمائی ۔ اب وہی مولوی جو یہ کہا کرتے تھے کہ اہنسا ہی اصل چیز ہے یہ کہنے لگ جائیں گے کہ “ اہنسا ” ہر حالت میں قابل عمل نہیں۔ بعض دفعہ سختی سے کام لینا بھی ضروری ہوتا ہے مگر کون شخص ہے جو اس عرصہ میں اپنی جگہ سے نہ ہلا ؟ وہ کون شخص ہے جس کی تعلیم پچاس سال تک ایک انچ بھی ادھر ادھر نہ ہوئی؟ وہ صرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہی ہیں۔ کبھی آپ کی قوم کو یہ کہنے کی ضرورت پیش