خطبات محمود (جلد 21) — Page 2
1940ء 2 خطبات محمود دوسرے کی جانوں، ایک دوسرے کے مالوں اور ایک دوسرے کی عزتوں کو دو۔ یعنی کسی کی عزت پر حملہ نہ کرو۔ اس پر اتہام نہ لگاؤ، اسے بدنام نہ کرو، اسے ذلیل نہ کرو، اسے بُرا بھلا نہ کہو۔ اسی طرح کسی کے مال پر حملہ نہ کرو یعنی امانتوں میں خیانت نہ کرو، کسی کا حق غصب نہ کرو، کسی کے مال اور جائداد میں ناجائز تصرف نہ کرو۔ اسی طرح کسی کی جان پر حملہ نہ کرو۔ یعنی کسی کو مارو نہیں، کسی کو پیٹو نہیں، کسی کو قتل نہ کرو اور کسی سے لڑائی جھگڑا اور دنگا فساد نہ کرو۔ یہ رسول کریم صلی العلیم کی و یا ایم کی وصیت ہے اور آپ نے اس وصیت کے ، ، اور آپ نے اس وصیت کے بیان کرنے کے بعد دو دفعہ فرمایا کہ میں نے یہ وصیت تمہیں کی ہے جس شخص کے کان میں میری یہ بات پڑے اسے چاہئے کہ وہ آگے دوسرے لوگوں کے کان تک میری اس وصیت کو پہنچادے اور انہیں چاہئے کہ وہ اور آگے بیان کریں۔ گویا ہر شخص جو یہ حدیث سنے اسے رسول کریم صلی علیم کا یہ حکم ۔ کا یہ حکم ہے کہ وہ آگے دوسرے مسلمان بھائیوں تک اسے پہنچادے۔ میں الله س س مانے اس حدیث کا ذکر کرتے ہوئے دوستوں کو نصیحت کی کہ وہ بھی رسول کریم صل اللہ ہم کی اس وصیت کے ماتحت اس حدیث کو دوسروں تک پہنچاتے چلے جائیں۔ یہاں تک کہ یہ حدیث چکر کھا کر پھر اُن تک پہنچے اور پھر دوبارہ وہ شاہد بن جائیں اور دوبارہ ان پر یہ فرض عائد ہو جائے کہ وہ اسے غائب تک پہنچادیں کیونکہ رسول کریم صلی الم کے الفاظ یہ ہیں کہ فَلْيُبلغ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ شاہد غائب تک اسے پہنچا دے۔ یعنی جس کے کان میں یہ حدیث پہنچے وہ اسے اس شخص کے کان تک پہنچادے جو اس مجلس میں موجود نہیں تھا۔ رسول کریم صلی ا ہم نے یہ ہو وہ اسے اس نہیں فرمایا کہ فَلْيُبَلِّغِ الْعَالِمُ الْجَاهِلَ کہ جس شخص کو اس حدیث کا علم ہو وہ شخص تک پہنچادے جسے اس حدیث کا علم نہ ہو۔ اگر آپ یہ فرماتے تو اس کے معنے اور ہو جاتے اور رسول کریم صلی علیم کے اس ارشاد کا صرف یہ مطلب ہو تا کہ جن لوگوں کو اس حدیث کا علم ہوا نہیں تو یہ نہ پہنچائی جائے۔ البتہ جو اس حدیث سے ناواقف ہوں ان تک اس حدیث کو پہنچایا جائے۔ اس صورت میں جب کوئی شخص اس حدیث کو سن لیتا تو وہ سمجھ لیتا کہ اب کسی اور کو اس بات کی ضرورت نہیں کہ پھر دوبارہ مجھے وہ یہ حدیث پہنچائے اور نہ مجھ پر یہ فرض ہے کہ میں ہر شخص کے کے آگے آگے اسے اسے بہ بیان کروں بلکہ جو اس حدیث سے ناواقف ہو گا صرف اسے رسول کریم صلی اللی سیم صا سر