خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 182 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 182

1940ء 182 خطبات محمود بعض ہزار دو ہزار کی حیثیت کے تھے مگر اب ان کی حیثیت اس سے بہت زیادہ ہے اور اگر ان کے اندر غیرت دینی نہ بھی ہو اور احمدیت و اسلام کی محبت بالکل نہ ہو تو بھی حضرت لقمان کی بات کے پیش نظر ان کو چاہیئے تھا کہ جس کے طفیل 350 دن روٹی کھاتے ہیں اس کے لئے پندرہ دن قربانی کرنے سے دریغ نہ کریں۔ یہ تو ایک ایسی بات ہے جس کی ایک ہندو اور عیسائی سے بھی امید کی جاتی ہے۔ انگلستان اس وقت لڑائی میں شامل ہے وہاں کسی کی نہ تجارت باقی ہے نہ جائداد۔ سب پر حکومت کا قبضہ ہو چکا ہے اور پھر ان لوگوں کی قربانیوں کے واقعات چھپتے ہیں تو پڑھ کر حیرت ہو جاتی ہے۔ ایک واقعہ لکھا ہے کہ ایک بوڑھا آدمی نیوی سے ریٹائر ہو چکا تھا حکومت کی طرف سے سے جب اعلان کیا گیا کہ ڈنکرک سے فوجوں کو نکالنے کے لئے ہر قسم کے جہازوں اور ملاحوں کی ضرورت ہے تو چھ گھنٹہ کے اندر اندر ہزاروں لوگ اپنی اپنی کشتیاں لے کر حاضر ہو گئے کہ ہمیں بھیج دیا جائے اور ان میں سے ایک کشتی کا مالک وہ بڑھا تھا۔ ان سب کو بھیج دیا گیا اور وہ دن رات کام کرتے رہے۔ یہ بوڑھا بھی بار بار سپاہیوں کو اپنی کشتی میں بٹھا کر لایا اور دن رات ایسی سخت محنت کی کہ اس کے پاؤں پر فالج گرامگر پھر بھی اس نے اپنا کمپاس نہ چھوڑا اور اس فالج کی حالت میں بھی آخری پھیر الایا۔ یہ وہ لوگ ہیں جو محض دنیا کے لئے کام کرتے ہیں روحانیت سے ان کو واسطہ نہیں مگر ہم میں سے بعض احمدیت کے لئے معمولی سی قربانی میں بھی تامل کرتے ہیں حالانکہ احمدیت کے طفیل دنیوی لحاظ سے بھی ان کو کافی فائدہ پہنچا ہوا ہے۔ انہ : نہ ہوئے ہوں ۔ ہم میں سے کون ہے جسے احمدیت سے روحانی ، جسمانی اور مالی فوائد حاصل : ہمیں خود فائدہ پہنچا ہے، ہم زمیندار ہیں مگر ہماری زمینوں کی قیمت پہلے اتنی نہ تھی جتنی اب ہے۔ ہم کہتے تو ہیں کہ ہم سلسلہ کے اموال میں سے کچھ نہیں لیتے مگر اس طرح دیکھا جائے تو بہر حال ہمیں سلسلہ کے طفیل فائدہ پہنچا ہے۔ مجھے یاد ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک دفعہ نواب محمد علی خان صاحب سے فرمایا کہ یہاں کے چوہڑوں کی طرف سے بہت تکلیف پہنچ رہی ہے۔ والد صاحب کے زمانہ میں ان کو صرف آٹھ آنہ ماہوار اور روٹی ملتی تھی اور وہ سارا سارا دن کام کرتے تھے مگر اب