خطبات محمود (جلد 21) — Page 143
1940ء 143 خطبات محمود کہ وہ اس جہاد میں شامل ہو۔ ہم نے تو جماعت کے دوستوں کے لئے اتنی سہولت پیدا کر دی ہے کہ ان پر یہ پابندی ہی نہیں رکھی کہ وہ ضرور دو دو یا تین تین مہینے تبلیغ کے لئے وقف کریں بلکہ اجازت دی ہے کہ اگر کوئی شخص پندرہ دن تبلیغ کے لئے دے سکتا ہو تو پندرہ دن ہی دے دے، تین ہفتے دے سکتا ہو تو تین ہفتے دے مہینہ دے سکتا ہو تو مہینہ دے، دو مہینے دے سکتا ہو تو دو مہینے دے۔ بہر حال ہم نے اپنی جماعت کے دوستوں کی سہولت کے لئے اس حکم کو بہت نرم کر دیا ہے بلکہ اب میں کہتا ہوں کہ جو دو ہفتے دینے سے معذور ہوں محکمہ ان کی طرف سے ایک ہفتہ ہی منظور کرلے۔ پس چاہیے کہ ہر شخص اس سے فائدہ اٹھائے اور تبلیغ کے لئے سال میں سے پندرہ دن یا مہینہ یا دو مہینے وقف کرے۔ ورنہ جیسا کہ میں نے بتایا ہے ہر شخص جو اس ذمہ داری کو ادا نہیں کرتا وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایک فریضہ کا تارک ہے اور اس کا گناہ ویسا ہی ہے جیسے نماز کے ترک کرنے کا، جیسے روزہ کے ترک کرنے کا، جیسے حج اور زکوۃ کے ترک کرنے کا۔ پس میں جماعت کو آج پھر اس اہم امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔ آج میں نے اس مسئلہ کو زیادہ واضح کر دیا ہے تاکہ کسی کو اس کے سمجھنے میں دقت نہ ہو۔ تم خود ہی غور کرو کہ اگر یہ جہاد ہے اور جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے لکھا یہ جہاد ہے تو پھر جہاد میں قائمقام دینا جائز نہیں ہوتا۔ بلکہ ہر شخص کا ذاتی طور پر فرض ہوتا ہے کہ وہ اس میں حصہ لے۔ اس لئے اگر کوئی شخص اس تبلیغ کے فریضہ کو ادا نہیں کرے گا تو وہ گنہگار ہو گا۔ پس ہر جگہ کی جماعت کو اس کے متعلق فوری طور پر انتظام کرنا چاہیے۔ جو جماعت اس کے متعلق کوئی انتظام نہیں کرے گی وہ ایک بہت بڑی ذمہ داری ادا کرنے سے قاصر سمجھی جائے گی۔ خصوصاً قادیان کے دوستوں کو میں اس اہم امر کی طرف متوجہ کرتا ہوں وہ قادیان میں ہجرت کر کے آئے ہوئے ہیں اور ہجرت کے معنی یہ ہیں کہ انہوں نے اپنا پورا وقت خدا تعالیٰ کے دین کی خدمت کے لئے دینے کا عہد کیا ہوا ہے۔ پس مہاجر ہونے کے لحاظ سے ان پر دوسروں سے زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ جو شخص کہتا ہے کہ میں ہجرت کر کے آیا ہوں اور پھر ساتھ ہی وہ یہ بھی کہتا ہے کہ میں اپنا وقت خدا تعالیٰ کے دین کی خدمت کے لئے دینے کو تیار نہیں وہ مہاجر نہیں بلکہ تارک وطن ہے۔ جیسے انگریز بعض دفعہ اپنا وطن ترک کر کے