خطبات محمود (جلد 21) — Page 124
1940ء 124 خطبات محمود الله حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے مجھے دیکھ لیا اور فرمایا کہاں جارہے ہو ؟ میں نے عرض کیا حضرت مولوی صاحب سے بخاری پڑھنے جا رہا ہوں۔ فرمانے لگے مولوی صاحب کو میری طرف سے کہنا کہ ایک حدیث میں یہ ذکر بھی آتا ہے کہ رسول کریم صلی الی یوم جمعہ کے دن نئے کپڑے بدلتے اور عطر لگایا کرتے تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ حضرت خلیفۃ المسیح الاول اپنی سادگی میں بعض دفعہ بغیر کپڑے بدلے جمعہ کے لئے تشریف لے آیا کرتے تھے۔ میں نے جاکر اسی رنگ میں ذکر کر دیا۔ حضرت مولوی صاحب یہ سن کر ہنس پڑے اور فرمانے لگے حدیث تو ہے مگر یو نہی کچھ غفلت ہو جاتی ہے۔ تو عطر لگانا رسول کریم صلی علیم کی سنت ہے مگر ان کے نزدیک جو شخص عطر ملتا ہے وہ اس بات کا ثبوت مہیا کرتا ہے کہ گویا اس نے شراب پی ہوئی تھی جس کی بو کو زائل کرنے کے لئے اس نے عطر لگا لیا۔ ایسے لوگوں کو ملاقات کا موقع دینا میرے نزدیک ظلم ہے کیونکہ عقلمند لوگ کہا کرتے ہیں کہ جو لوگ اہل نہ ہوں ان پر احسان بھی نہیں کرنا چاہیئے۔ پس یہ لوگ اس قسم کے اخلاق کے مالک ہیں کہ ان کے ساتھ شرافت اور خوش خلقی کے ساتھ پیش آنا بھی اپنا نقصان آپ کرنا ہے۔ ذرا غور کرو کہ ملاقاتیں بند تھیں میں اپنی جماعت کے دوستوں سے بھی نہیں ملتا تھا، گھر میں صفائی ہو رہی تھی، گرد اڑ رہی تھی، سامان ادھر اُدھر بکھرا ہوا تھا اور میں محض اس لئے کہ ایک پیغامی دوست ملنے کے لئے آئے ہیں جلدی جلدی صفائی کروانے لگا خود بھی اس صفائی میں شریک ہوا اور جب ان صاحب کو ملاقات کا موقع دیا تو وہ گھر جا کر کہنے لگ گئے کہ انہوں نے شراب پی ہوئی تھی تبھی ملنے میں دیر لگائی۔ یہ لوگ اگر دنیا کی اصلاح کرنے والے ہیں تو پھر اصلاح ہو چکی۔ مگر اس قسم کے صرف چند لوگ ہی ہیں میں نہیں سمجھتا کہ سارے غیر مبائعین ایسے ہی ہوں۔ آخر ان میں شریف اور نیک لوگ بھی ہیں تبھی بعض شریف الطبع لوگ ان سے علیحدہ ہو کر ہم میں شامل ہوتے رہتے ہیں۔ پس اس قسم کی عداوت رکھنے والے لوگ بہت کم ہوتے ہیں اور پھر اللہ تعالیٰ کا فضل شامل حال ہو تو بڑے بڑے معاندین کو بھی ہدایت نصیب ہو جاتی ہے۔ ابھی سیالکوٹ میں ایک دوست احمدیت میں داخل ہوئے ہیں۔ شیخ روشن الدین صاحب تنویر