خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 87 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 87

خطبات محمود ۸۷ سال ۱۹۳۹ ء آٹھ کروڑ مسلمانوں کے اندر صحیح اخلاق ہوتے تو یہ آٹھ کروڑ مسلمان بھی ہندوستان کو بچا سکتا تھا۔ بلکہ آٹھ کروڑ کیا اگر چار کروڑ با اخلاق مسلمان بھی ہندوستان میں موجود ہوتا تو کوئی غیر حکومت اس ملک کی طرف اپنی آنکھ نہیں اُٹھا سکتی تھی ۔ بھلا چار کروڑ مسلمانوں کے مقابلہ میں کیا حیثیت رکھتے تھے چند ہزار انگریز یا چند ہزار فرانسیسی یا پُرتگیزی ۔ پھر چار کروڑ ہی نہیں اگر دو کروڑ مار کروڑ ہی نہیں اگر دو کروڑ دیانت دار مسلمان بھی ہندوستان میں موجود ہوتے تب بھی یہ ملک دوسروں کا غلام نہیں ہو سکتا تھا۔ اگر اُس وقت مسلمانوں کی حکومت میں دو کروڑ ایسے مسلمان موجود ہوتے جو اپنی جانیں قربان کرنے کے لئے تیار ہوتے تو کس کی طاقت تھی کہ وہ ہندوستان کی طرف آنکھ اُٹھا کر دیکھ سکتا ۔ بلکہ میں کہتا ہوں اگر ایک کروڑ بھی دیانتدار مسلمان ہوتا، ایک کروڑ نہیں پچاس لاکھ ہی ہوتے ، پچاس لاکھ نہیں پچیس لاکھ ہی ہوتے ، پچیس لاکھ نہیں بارہ لاکھ ہی دیانتدار مسلمان موجود ہوتے تو بھی آج ہمارے ملک کی وہ حالت نہ ہوتی جو نظر آ رہی ہے۔ بارہ لاکھ دیانتدار مسلمانوں کی موجود کی کے معنے یہ تھے کہ ایک لاکھ جاں نثار سپاہی میتر آ سکتا تھا اور اگر ایک لاکھ جان شار سپاہی اُس وقت موجود ہوتا تو انگریزوں اور فرانسیسیوں کی مجموعی طاقت بھی اُن کا مقابلہ نہ کر سکتی ۔ کسی ملک کی آبادی کے آٹھ فیصدی حصہ کا سپاہی ہونا معمولی بات ہے۔ جو جنگی قو میں ہوتی ہیں اُن میں بعض دفعہ سولہ فیصدی تک سپاہی ہوتے ہیں اور جب انتہائی خطرہ کا وقت آتا ہے تو تمھیں بلکہ چالیس فیصدی آبادی بھی لڑائی کے لئے تیار ہو جاتی ہے۔ بہر حال کسی ملک کا جو ادنیٰ سے ادنی فوجی معیار ہے اگر وہی ہمارے ملک میں قائم ہوتا تو بارہ لاکھ مسلمانوں میں سے ایک لاکھ سپاہی ضرور مل جاتا اور اعلیٰ معیار کے رُو سے پونے پانچ لاکھ مسلمان انگریزوں کے مقابلہ کے لئے تیار ہوتے ۔ اب اگر اتنی بڑی تعداد ہندوستان میں موجود ہوتی تو کونسی قوم تھی جو ہندوستان کو فتح کر سکتی ۔ یقیناً نہ انگریز ہندوستان کو فتح کر سکتے نہ فرانسیسی اِسے فتح کرنے کی طاقت رکھتے اور نہ پرتگیزی اسے فتح کرنے کی طاقت رکھتے ۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اس وقت صرف چند ہزار یا چند سوایسے لوگ تھے جو دیانتدار تھے اور جو ملک کے لئے قربانی کرنے کی روح اپنے اندر رکھتے تھے۔ باقی جس قدر تھے وہ ٹھگ تھے، وہ فریبی تھے ، وہ دھو کے باز تھے ، وہ رشوت خور تھے ، وہ نمک حرامی کرتے تھے اور غیروں سے