خطبات محمود (جلد 20) — Page 593
خطبات محمود ۵۹۳ سال ۱۹۳۹ ء طور پر ہی کیوں نہ ہو بہت بڑی ہتک کا موجب ہے اور اب ایسے تمام لوگوں کو میں نے نوٹس دے دیا ہے کہ اگر وہ ۳۱ مئی تک اپنی واجب الادا رقوم ادا کر دیں گے تو ہم سمجھیں گے کہ وہ تحریک جدید کی مالی قربانی میں حصہ لینے والوں میں شامل رہنا چاہتے ہیں اور اگر اُنہوں نے بقائے ادا نہ کئے تو اُن کے متعلق یہ سمجھا جائے گا کہ وہ اس گروہ میں شامل نہیں رہنا چاہتے اور اُنہوں نے محض جھوٹی عزت اور جھوٹے فخر کے لئے نام لکھا دیا تھا۔ پس وہ اس قابل نہیں ہوں گے کہ اُن کا نام عارضی طور پر بھی اس لسٹ میں رہ سکے ۔ ہاں جو لوگ مہلت لینا چاہیں وہ لے سکتے ہیں ۔ اسی طرح اب جو سال ختم ہوا ہے یعنی تحریک جدید کا پانچواں سال اس کے بقایا داران کو بھی میں توجہ دلاتا ہوں کہ وہ ادائیگی کی فکر کریں اور جیسا کہ میں نے کہا ہے انہیں کوشش کرنی چاہئے کہ وہ ۳۱ جنوری تک اپنے بقایوں کو صاف کر دیں اور اگر ۳۱ جنوری تک ادا نہ کر سکتے ہوں تو مزید مہلت لے لیں ۔ غیر ممالک کے لئے آخری میعاد جون تک ہے ۔ گو اِس سال باہر کی جماعتوں نے بھی کوشش کی ہے کہ ہندوستان کی جماعتوں کے ساتھ ہی اپنے وعدوں کو پورا کر دیں جیسا کہ میں نے بتایا تھا ایک دوست نے افریقہ سے بذریعہ تار رو پیر پیہ بھجوایا ۔ اس کے سے بعد ان کا خط آیا کہ میرے پاس روپیہ نہیں تھا مگر میعاد ختم ہو رہی تھی۔ میں نے بعض دوستوں ذکر کیا کہ میں اس سال ثواب سے محروم رہا جا رہا ہوں مجھے کچھ قرض دیا جائے تا کہ میں یہ رقم ادا کردوں ۔ چنانچہ ان سے قرض لے کر میں نے تار کے ذریعہ روپیہ بھجوایا تا کہ وقت کے اندر پہنچ سکے۔ اسی طرح امریکہ کے دوستوں نے بھی چندہ وقت پر ادا کرنے کی کوشش کی ہے۔ چنانچہ ابھی چند دن ہوئے امریکہ کے نو مسلموں کی طرف سے پونے چار سو روپیہ کا چیک تحریک جدید کے چندہ کے طور پر آیا جس سے میں سمجھا کہ ان کی کوشش یہی تھی کہ ہندوستان والوں کے لئے چندہ کی جو آخری تاریخ مقرر ہے اُس تاریخ کے اندر اندر ان کا وعدہ بھی پورا ہو جائے ۔ پس پانچویں سال کے بقایا داران کو چاہئے کہ وہ ۳۱ / جنوری تک اپنا وعدہ پورا کرنے کی انتہائی کوشش کریں اور اگر وہ مزید مہلت لینا چاہیں تو مزید مہلت لے لیں اور جن کے ذمہ ابھی تک پہلے چار سالوں کا بھی بقایا ہے۔ دفتر کو چاہئے کہ ان تمام کو رجسٹری چٹھیاں بھجوا کر نوٹس دے