خطبات محمود (جلد 20) — Page 572
خطبات محمود ۵۷۲ سال ۱۹۳۹ ء لر لا ہور سے حسین کامی یہاں آیا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک خاص آدمی بھیج کر لا ہے اس کے لئے سگریٹ اور سگار منگوائے ۔ کیونکہ قرآن کریم میں تمباکو کا ذکر نہیں آتا صرف قیاس سے اس کی کراہت ثابت کی جاتی ہے۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام خود اس سے کراہت کرتے تھے مگر مہمان کے لئے لاہور سے منگوائے ۔ اسی طرح چراغاں اپنی ذات میں بیشک منع نہیں سب لوگ اپنے گھروں میں لیمپ یا دیئے وغیرہ جلاتے ہیں اس لئے غیروں کی دلجوئی اور انہیں خوش کرنے کے لئے ان کی کسی تقریب پر چراغاں کرنے میں کوئی حرج نہیں ۔ اب بھی اگر بادشاہ یا حکومت کی کوئی تقریب ہو اور وہ کہے کہ چراغاں کرو تو ہم کر دیں گے کیونکہ حکومت کی عزت ہم پر خدا تعالیٰ کی طرف سے واجب ہے اور ایسا کر دینے سے ہمارا خدا بھی ہم سے خوش ہو گا اور حکومت بھی مگر یہی بات ہم اپنی کسی مذہبی تقریب پر اختیار نہیں کر سکتے ۔ اگر تو حکم کے ماتحت چراغ جلاتے ہیں تو ہمیں ثواب بھی پہنچتا ہے کہ ہم نے حکم مانا ۔ یہ جلا نا ضائع نہیں جائے گاور نہ یوں کسی غریب کو روٹی کھلا دینا اس سے بہت زیادہ بہتر ہے کہ انسان گھر میں پندرہ ہمیں دیئے جلائے ۔ دیئے جلانے میں کم سے کم ڈیڑھ دو آ نہ کا تیل تو ضائع ہوگا اور اتنے پیسوں میں دوغریبوں کا جو فاقہ سے تڑپ رہے ہوں پیٹ بھرا جا سکتا ہے۔ بتاؤ یہ اچھا ہے کہ دیئے جلا کر اپنی آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچائی جائے یا کسی غریب کا پیٹ بھر کر اللہ تعالیٰ کو خوش کیا جائے؟ تو چراغاں کا کوئی فائدہ نہیں اور نہ اس کا شریعت نے حکم دیا ہے۔ شریعت نے صدقہ کا حکم دیا ہے اور اس سے کئی فوائد بھی ہیں ۔ اس طرح کئی لوگوں کی طرف جن کا ہمیں پتہ بھی نہیں ہوتا توجہ ہو جاتی ہے اور پھر دوسرے کی مصیبت اور اپنی خوشی کے موقع پر اس کی طرف توجہ ہو جاتی ہے۔ پس ایسی تقریبات کے موقع پر ہمیں خیال رکھنا چاہئے کہ یورپین لوگوں کی نقل نہ ہو بلکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نقل ہو۔ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ بعض لوگوں کے متعلق فرمائے گا کہ ان کو جنت میں اعلیٰ انعام دو۔ میں بھوکا تھا انہوں نے مجھے کھانا کھلایا، ہمیں ننگا تھا انہوں نے مجھے کپڑے پہنائے ۔ وہ لوگ استغفار پڑھیں گے اور کہیں گے یا الہی یہ کیونکر ہو سکتا ہے کہ تو بھوکا پیاسا یا ننگا ہو اور ہم کنگال کیا حیثیت رکھتے تھے کہ تجھے کھانا کھلاتے یا کپڑے پہناتے مگر اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ نہیں تم نے ایسا ہی کیا۔ جب کہ میرے