خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 565 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 565

خطبات محمود ۵۶۵ ۳۵ سال ۱۹۳۹ ء خلافت جو بلی کے موقع پر جلوس اور چراغاں جلسہ سالانہ پر تشریف لانے والے مہمانوں کے متعلق مقامی جماعت کو اہم ہدایات فرموده ۱۸ دسمبر ۱۹۳۹ء ) تشہد ، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :- اخبارات میں مختلف اعلانات خلافت جو بلی کے متعلق نکل رہے ہیں ان اعلانات کے پڑھنے کے بعد میں بعض باتیں کہہ دینا ضروری سمجھتا ہوں ۔ میں نے مجلس شوری کے موقع پر بھی ان باتوں کی طرف توجہ دلائی تھی مگر انسان کی فطرت ایسی ہے کہ وہ نقل کی طرف زیادہ مائل ہوتی ہے یہ نسبت عقل کے ۔ کیونکہ نقل کرنا زیادہ آسان ہوتا ہے اور عقل سے کام لینا مشکل ہوتا ہے ۔ یہ زمانہ عیسائیت کے فروغ کا زمانہ ہے۔ وہ قو میں جو آہستہ آہستہ ترقی کرتی ہیں ان میں مظاہرے کرنے کی عادت زیادہ ہوتی ہے اور جن کو یکدم غلبہ حاصل ہوتا ہے وہ چونکہ حقیقت سے آشنا ہو چکی ہوتی ہیں اور مقصود ان کو مل چکا ہوتا ہے اس لئے ان کو مظاہروں کی ضرورت پیش نہیں آتی ۔ جو ماں باپ بچوں کے ساتھ رہتے ہیں انہیں ان کی تصویریں رکھنے کا شوق اتنا نہیں ہوتا لیکن جن کے بچے ان سے دُور ہوتے ہیں انہیں تصویروں کی طرف زیادہ خیال ہوتا ہے کیونکہ جب اصل اصل انسان انسان کے کے سا سامنے نہ ہو تو وہ نقل سے دل بہلانے کی کوشش کرتا ہے۔ جن قوموں کو خدا مل جاتا ہے وہ بُتوں اور بت خانوں کی طرف توجہ نہیں کرتیں لیکن جن کو خدا نہیں ملا ہوتا وہ بتوں اور بت خانوں کی طرف زیادہ مائل ہوتی ہے ۔