خطبات محمود (جلد 20) — Page 563
خطبات محمود ۵۶۳ سال ۱۹۳۹ ء آنکھوں میں بھی آنسو آ گئے مگر آپ نے فرمایا اے میرے چا! آپ کو اگر اپنی تکلیف کا خیال ہے تو میرے ساتھ آپ آئندہ کوئی واسطہ نہ رکھیں اور مجھے میرے حال پر رہنے دیں اور اے میرے چا! کسی خوبصورت لڑکی سے شادی اور روپیہ اور سرداری کا تو کیا ذکر ہے اگر یہ لوگ سورج کو میرے دائیں اور چاند کو میرے بائیں پہلو پر بھی لاکھڑا کریں تب بھی میں ان کی بات نہ مانوں گا اور خدا تعالیٰ کی توحید کا کلمہ بلند کرتا رہوں گا ۔ ہے گویا مکہ کی حکومت کیا اگر ساری دنیا کی حکومت انہیں مل جائے اور ساری دُنیا کی حکومت کیا سارے عالم کی حکومت انہیں مل جائے اور یہ جب چاہیں سورج کو اُتار لیں اور جب چاہیں چاند کو اُتار لیں گویا سورج اور چاندان کی مٹھی میں اس طرح کھیل رہے ہوں جس طرح بچے اپنے ہاتھوں میں گیند اُٹھائے پھرتے ہیں تب بھی میں ان کی بات ماننے کے لئے تیار نہیں ۔ یہ غریب اور بیکس محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) جس نے ابو طالب کو کوٹھری میں یہ جواب دیا تھا کونسا انسان ہے جو اس کے مقابلہ میں ٹھہر سکتا ہو ۔ اس ایک واقعہ سے ہی کروڑوں سورج سے زیادہ شعاعیں نکل نکل کر قلوب کو منور کر رہی ہیں اور دُنیا کی ساری روشنیاں اس کے سامنے اندھیرا بن جاتی ہیں ۔ پس کمزوری کی جنگ کوئی معمولی جنگ نہیں ہوتی وہ نادان بزدل اور بیوقوف ہوتا ہے جو یہ سمجھتا ہے کہ ہم کیا اور ہماری ہستی کیا۔ لوگ کہتے ہیں کہ کیا پڑی اور کیا پدی کا شور بہ ۔ مگر اس به پڑی کی دلیری سے کون متاثر ہوئے بغیر رہ سکتا ہے جو باز کے مقابلہ میں کھڑی ہو جائے اور کہے کہ میں مر جاؤں گی مگر باز کے ظلم کو برداشت نہیں کروں گی ۔ اب مرنے کو پولینڈ والے مر گئے اسی طرح فن لینڈ والے مر جائیں یا بچ جائیں کیونکہ وہ کچھ صلح کی طرف مائل دکھائی دیتے ہیں مگر کون کہہ سکتا ہے کہ پولینڈ والے ذلیل ہو گئے ۔ وہ لڑے اور لڑتے ہوئے مارے گئے ۔ اگر وہ یونہی بغیر لڑائی کے اپنا ملک جرمنی کے حوالے کر دیتے تو بیشک وہ ذلیل ہو جاتے مگر اب وہ مر کر بھی ذلیل نہیں ہیں اور خواہ انگریز انہیں آزادی دلا سکیں یا نہ دلا سکیں بعد میں پیدا ہونے والے پولینڈ کے لوگ ذلیل ہو جائیں تو ہو جائیں موجودہ پولینڈ کے لوگ ذلیل نہیں کہلا سکتے ۔ اسی طرح وہ جو آج اسلام کی اشاعت کے لئے کھڑے ہو رہے ہیں جو سچ اور ہدایت کو پھیلانے کے لئے کھڑے ہو رہے ہیں یا آئندہ کھڑے ہوں گے یقیناً عزت میں ان کا مقابلہ دُنیا کی