خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 560 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 560

خطبات محمود ۵۶۰ سال ۱۹۳۹ ء ہے اب تو اس کی مخالفت کی حد ہو گئی اگر یہ اتنا ہی کرلے کہ ہمارے معبودوں کو بُرا بھلا کہنا چھوڑ دے تب بھی ہم اس کے خدا کو مان لیتے ہیں ۔ یہ صرف اتنا کرے کہ ہمارے معبودوں کو بُرا بھلا نہ کہے۔ لیکن اگر اس نے اس آخری نوٹس اور تجویز کے بعد بھی ہمارے معبودوں کو بُرا بھلا کہنا نہ چھوڑا اور تم اس کی مدد پر رہے تو اے ابو طالب ! ہم تمہیں بھی ریاست سے جواب دے دیں گے ۔ اب تک ہم تمہارا بڑا لحاظ کرتے چلے آئے ہیں مگر اب یہ معاملہ ہماری حد برداشت سے باہر ہو گیا ہے اور ہم تمہیں یہ کہنے آئے ہیں کہ یا تو اپنے بھتیجے کو روک لیں ورنہ اس کے ساتھ ہی ہم تمہارا بھی مقابلہ کریں گے اور تم کو رئیس اور سردار کے مرتبہ سے الگ کر دیں گے۔ سے ابو طالب کی تو زندگی ہی مکہ کی ریاست اور سرداری میں تھی ۔ وہ بھلا اس کو کہاں چھوڑ سکتے تھے ۔ اُنہوں نے جب یہ دھمکی سُنی تو ان کے ہوش اُڑ گئے اور یہ بات ابو طالب پر ہی منحصر نہیں پرانے خاندانوں میں اپنی عزت کو قائم رکھنے کی ہمیشہ کوشش کی جاتی ہے۔ ہمارے دادا کے متعلق ہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سُنایا کرتے تھے کہ وہ مختلف کام جو مہا راجہ رنجیت سنگھ کی ملازمت میں اور پھر کشمیر میں کرتے رہے ان ایام میں اُنہوں نے ایک لاکھ کے قریب روپیہ جمع کیا۔ اُس زمانہ میں روپیہ کی بہت بڑی قیمت ہوا کرتی تھی ۔ چنانچہ قریب ہی ایک گاؤں راجپورہ ہے وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک چچا نے پانچ سوروپیہ میں خریدا تھا۔ چھ سوایکڑ اس کی زمین ہے اور گو وہ زمین اتنی اچھی نہیں مگر پھر بھی کجا چھ سوایکڑ زمین ایک رو پیدا یکڑ سے بھی کم قیمت میں انہیں زمین مل گئی۔ پس اگر وہ چاہتے تو اس روپیہ سے بہت بڑی جائیداد پیدا کر سکتے تھے مگر جب انگریزوں کی حکومت آئی اور اُنہوں نے ان کی جائیداد ضبط کر لی تو وہ اس کے حصول کے لئے مقدمات میں لگ گئے بعض دوستوں نے انہیں مشورہ دیا کہ آپ اس کام میں نہ پڑیں اس میں چنداں فائدہ نہیں ۔ اگر کچھ ملا بھی تو بالکل بے حقیقت ہو گا ۔ اس وقت جائیداد کی قیمت کچھ نہیں آپ کے پاس روپیہ ہے آپ اگر چاہیں تو اس روپیہ سے پچاس اچھے اچھے قصبے خرید سکتے ہیں ۔ اس میں آپ کی اولاد کی بھی بہتری ہو گی ۔ کیونکہ اس جائیداد سے ان کے لئے گزارہ کی معقول صورت پیدا ہو جائے گی ۔ اس علاقہ میں ان دنوں چھوٹے چھوٹے زمیندار تھے مگر باہر گوجرانوالہ اور لاہور کے اضلاع میں اچھے اچھے زمیندار تھے جو پچاس پچاس