خطبات محمود (جلد 20) — Page 56
خطبات محمود ۵۶ سال ۱۹۳۹ ء تکلیف نہیں۔ پس ایسے معاملات میں جہاں برطانوی ایمپائر کا سوال آجائے ہمارے مقامی جھگڑے قطعاً کوئی روک نہیں بن سکتے اور اگر جنگ ہو گئی تو ہم پورے طور پر حکومت برطانیہ کے ساتھ تعاون کریں گے بلکہ پہلے سے زیادہ تعاون کریں گے۔ پس اگر کسی کے دل میں یہ شبہ ہو کہ ایسے موقع پر ہماری جماعت کا کیا رویہ ہوگا تو اُسے یا د رکھنا چاہئے کہ ہماری جماعت کا یہی رویہ ہوگا کہ وہ حکومت برطانیہ کی تائید کرے گی ۔ در حقیقت یہ سخت تھڑ دلی اور تنگ دلی ہوتی ہے کہ انسان مقامی جھگڑوں کو بڑھا کر وسیع کر دے۔ ہماری اگر حکومت پنجاب کے چند افسروں کے ساتھ لڑائی ہو تو اس کی وجہ سے ہم ان عظیم الشان فوائد کو نظر انداز نہیں کر سکتے جو حکومت برطانیہ کی وجہ سے اس حکومت کے ماتحت رہنے والے لوگوں کو حاصل ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کا نگرسی بھی اپنے دل میں یہ سمجھتے ہیں کہ اگر کسی وقت جنگ کا خطرہ ہوا اور اُنہوں نے دیکھا کہ حکومت کی رستی برطانیہ کے ہاتھ سے جا رہی ہے تو وہ بھی حکومت برطانیہ کے ساتھ تعاون کرنے پر مجبور ہوں گے اور واقعہ یہ ہے کہ اگر کسی حکومت کے ماتحت رہنے کا سوال ہو تو اس میں کوئی شبہ نہیں کہ انگریزوں کی حفاظت ہمارے ملک کے لئے بہت بڑی رحمت کا باعث ثابت ہوئی ہے۔ مگر یا د رکھنا چاہئے کہ ہماری جماعت ایک بین الاقوامی جماعت ہے۔ کچھ اٹلی کے ماتحت ہیں ، کچھ جرمنی کے ماتحت ہیں کچھ امریکہ کے ماتحت ہیں ، کچھ برطانیہ کے ماتحت ہیں ۔ پس میں جو اعلان کر رہا ہوں یہ اپنی جماعت کے صرف اُسی حصہ کے متعلق اعلان ہے جو برطانوی حکومت کے ماتحت رہتا ہے ۔ ہماری جماعت کا ایسا تمام حصہ حکومت برطانیہ کی مدد کرے گا اور ہم ہرگز اس لڑائی جھگڑے کی پرواہ نہیں کریں گے جو بعض مقامی افسروں کے ساتھ ہمارا چل رہا ہے کیونکہ یہ جنگ مقامی نہیں بلکہ نہایت وسیع اثرات رکھنے والی ہو گی اور وہ شخص سخت احمق ہوتا ہے جو ایک چھوٹی بات کی وجہ سے بڑی بات میں بھی حصہ نہ لے بلکہ میں تو سمجھتا ہوں اب ہمارے پاس حکومت برطانیہ کی مدد کے اِس سے بہت زیادہ سامان ہیں جتنے ۱۹۱۴ء میں ہمارے پاس سامان تھے اور اگر جنگ چھڑ گئی تو میں جماعت کو بتا دینا چاہتا ہوں کہ ہمارا فرض ہوگا ہم برطانوی حکومت کے ساتھ پورے طور پر تعاون کریں اور ہر قربانی کر کے اپنے آپ کو ایک اچھا شہری ثابت کریں تا کہ وہ برکت جو تبلیغ میں سہولت کی وجہ سے ہمیں حاصل ہے وہ جاتی