خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 542 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 542

خطبات محمود ۵۴۲ سال ۱۹۳۹ ء کہ کسی عزیز کی موت پر جو جنگ میں مارا جائے رونا ، پیٹنا یا رنج کے آثار ظاہر کرنا جرم ہے اور جو ایسا کرے اس پر مقدمہ چلایا جاتا ہے۔ یہ کتنے دُکھ کی بات ہے کہ کسی کا جوان بیٹا مارا جائے ہے بیٹا مارا اور اُسے چند منٹ غم کا اظہار کرنے کی بھی اجازت نہ ہو۔ بیشک بعض لوگ ایسے مواقع پر ایسے بہادری کا ثبوت بھی دیتے ہیں اور رنج وغم کے آثار ظاہر ظاہر نہیں ہونے دیتے مگر مگر ایسی مثالیں بہت شاذ ہوتی ہیں ۔ گزشتہ جنگ کے واقعات میں سے ایک واقعہ بیان کیا جاتا ہے کہ جرمنی کی ایک اسی سالہ بوڑھی عورت کا صرف ایک ہی جوان بیٹا تھا اُس کے سوا اُس کا کوئی نہ تھا۔ وہ جنگ میں مارا گیا ۔ وزیر جنگ نے اُسے یہ خبر سنانے کے لئے بُلایا ۔ جن لوگوں کو زیادہ صدمہ ہوان کے ساتھ زیادہ ہمدردی کا اظہار اور عزت کرنے نیز تسلی و تشفی دینے کے لئے جرمنی نے یہ اصول مقرر کیا تھا کہ وزیر جنگ خود بُلا کر انہیں ان کے غم سے آگاہ کرتا تھا اور تسلی دیتا تھا ۔ اس عورت ک کا بھی چونکہ یہی ایک لڑکا تھا اس لئے وزیر جنگ نے اسے بُلایا کہ یہ اندوہناک خبر سنائے ۔ ایک امریکن اخباری نامہ نگار نے لکھا کہ اس بڑھیا کی کمر بڑھاپے کی وجہ سے کبڑی ہو رہی تھی مگر جب وہ یہ خبر سن کر دفتر جنگ سے باہر نکلی تو اس نے اپنی کمر کو ہاتھ سے سیدھا کیا اور ایک مصنوعی قہقہہ لگاتے ہوئے کہا کہ کیا ہوا میرا لڑکا مارا گیا وہ ملک کی خاطر مارا گیا ہے ۔ اُس وقت اظہار غم ممنوع نہ تھا۔ لوگ اس حالت پر رورہے تھے مگر وہ ہستی تھی ۔ صحابہ کرام میں اس بہادری کی مثالیں بہت کثرت سے ملتی ہیں ۔ دُنیوی لوگوں میں تو کروڑوں لوگوں اور سینکڑوں ملکوں میں سے ایک آدھ ایسی مثال مل سکے گی مگر چند ہزار صحابہ امل میں سینکڑوں مثالیں ہیں۔ کیسی اعلیٰ درجہ کی وہ مثال ہے جو ایک عورت سے تعلق رکھتی ہے اور جسے میں نے پہلے بھی بار ہا سنایا ہے اور جو اس قابل ہے کہ ہر مجلس میں سنائی جائے اور اس کی یاد کو تازہ رکھا جائے ۔ بعض واقعات ایسے شاندار ہوتے ہیں کہ بار بار سنائے جانے کے باوجود پرانے نہیں ہوتے ۔ ایسا ہی واقعہ اس عورت کا ہے جس نے جنگ احد کے موقع پر مدینہ میں یہ خبر سنی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہو گئے ہیں اور وہ مدینہ کی دوسری عورتوں کے ساتھ گھبرا کر باہر نکل آئی اور جب پہلا سوار احد سے واپس آتا ہوا اُسے نظر آیا تو اُس نے اس سے دریافت کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا حال ہے؟ اُس نے کہا تمہارا خاوند مارا گیا ہے ۔ ہے۔