خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 467 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 467

خطبات محمود ٤٦٧ سال ۱۹۳۹ ء یہ شان صداقت ظاہر کر دیا کہ وہ اور اس کے ساتھی تباہ و برباد ہو گئے اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے ساتھی کامیاب و کامران ہوئے بلکہ اُس نے کہا تھا کہ خدایا یا ہم پر پتھر نازل کر یا کوئی دردناک عذاب نازل کر مگر اللہ تعالیٰ نے ایک عذاب کی بجائے اُن پر دونوں عذاب نازل کر دیئے اور کہا کہ تم ایک نشان کے ذریعہ ہمارے رسول کی صداقت معلوم کرنا چاہتے ہو ہم تمہارے منہ مانگے دونوں نشانوں کے ذریعہ اس کی صداقت ظاہر کرتے ہیں چنانچہ پہلے ابو جہل پر خصوصاً اور دوسرے کفار پر عموماً پھر نازل ہوئے اور پھر عذاب الیم نازل ہوا۔ تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ مکہ کے لوگ مدینہ کے لوگوں کو قومی طور پر نہایت حقیر اور ذلیل سمجھا کرتے تھے کیونکہ مکہ والے لڑائی کے فن میں ماہر تھے اور مدینہ کے لوگ محض زراعت پیشہ تھے جن کا کام یہ یہ تھا تھا کہ وہ ترکاریاں بوتے ، باغات لگاتے اور کھیتوں میں کام کر کےا۔ اپنی معاش کا سامان پیدا کرتے ۔ پس چونکہ وہ لڑائی بھڑائی میں ماہر نہیں تھے اس لئے مکہ کے لوگ انہیں بہت ہی ادنی اور ذلیل سمجھتے مگر اللہ تعالیٰ نے جب ان پر عذاب الیم نازل کرنا چاہا تو اس نے ان ادنی اور ذلیل سمجھے جانے والے لوگوں میں سے بھی پندرہ پندرہ سال کے دونو جوانوں کو جو خود اپنی قوم میں بھی ادنی اور کمزور تھے چنا اور اُن کے ہاتھوں ابو جہل کو زخمی کرایا۔ ان دو نوجوانوں میں سے ایک کو تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لئے لے لیا کہ وہ لمبے قد کا مضبوط نوجوان تھا اور دوسرے کو اس لئے کہ وہ رونے لگ گیا تھا اور اس نے اصرار کیا کہ میں ضرور ساتھ جاؤں گا ۔ کہے چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو بھی ساتھ لے لیا۔ حضرت عبد الرحمن بن عوف فرماتے ہیں کہ بدر کے میدان میں جب کفار اور مسلمانوں کے لشکروں کی صفیں ایک دوسرے کے مقابلہ میں کھڑی ہوئیں تو میں نے اس خیال سے کہ آج ایک بہت بڑی جنگ در پیش ہے دیکھوں تو سہی میرے دائیں بائیں کون ہیں منہ موڑ کر جو دیکھا تو مجھے نظر آیا کہ میرے ایک طرف بھی ایک پندرہ سال کا چھو کرا ہے اور دوسری طرف بھی پندرہ سال کا ایک چھو کرا ۔ میں نے اپنے دل میں کہا افسوس ! آج میرا دن خراب ہو گیا کیونکہ ایسی صورت میں جبکہ میرے دائیں بائیں مضبوط سپاہی نہیں ہیں میں دلیری سے دشمن کی طرف نہیں بڑھ سکتا کیونکہ میری پیٹھ بچانے والا کوئی نہیں ۔ جنگ کے موقع پر ہمیشہ قابل اور تجربہ کار سپاہی یہ خیال