خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 448 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 448

خطبات محمود ۴۴۸ سال ۱۹۳۹ ء موت تبھی آتی ہے جب خدا کسی کے لئے موت پسند کرتا ہے اور ہمارا خود اپنے لئے موت کو پسند کرنا تو موت کا نہیں بلکہ زندگی کا پیش خیمہ ہے۔ چنانچہ خدا تعالیٰ کا کلام بتا تا ہے کہ اگر تم اپنے لئے موت پسند کرو تو میں تمہارے لئے حیات پسند کروں گا اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اگر اسلام پر کوئی ایسا نازک وقت آ جائے جب اس کی تبلیغ کو روک دیا جائے ، اس کی اشاعت کو بند کر دیا جائے اور اس کو پھیلانے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا جائے اور اسلام کی بجائے دہریت اور کفر و الحاد کو فروغ دیا جائے تو میں یقیناً اپنے لئے ، اپنے عزیزوں اور دوستوں کے لئے اور اپنی تمام جماعت کے افراد کے لئے موت زیادہ پسند کروں گا بلکہ میں اس سے بھی زیادہ الفاظ کہتا مگر شاید ان لوگوں کے نزدیک جن کے دلوں میں کامل ایمان نہیں وہ مبالغہ میں داخل سمجھے جائیں لیکن یا درکھو ہمیشہ ایسے موقع پر ہی جب مومن اپنے لئے موت کا فیصلہ کر لیتے ہیں خدا تعالیٰ ان پر موت کو حرام کر دیتا ہے۔ افراد بے شک مارے جاسکتے ہیں، زید اور بکر بے شک ہلاک ہو سکتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ کی پسندیدہ قوم کبھی نہیں مر سکتی ۔ ایسی قوم کو خدا ہمیشہ زندہ کیا کرتا ہے اور اس کے دشمن کو ہی مارا کرتا ہے ۔“ ( الفضل ۲۱ اکتوبر ۱۹۳۹ء ) 66 ا الصحيح البخارى كتاب الجهاد و السير باب من حَبَسَهُ العذر عن الغزو السيرة الحلبية جلد ۲ صفحہ ۱۶۰ مطبوعہ ۱۹۳۵ء المائده : ۲۵ مستدرک الحاکم کتاب معرفة الصحابة رضى الله عنهم باب مناقب مقداد بن عمر الكندى دار الكتب العلمية بيروت لبنان الطبعة الاولى ١٩٩٠ء ه تفسیر طبری زیر آیت إِذْ تَسْتَغِيثُونَ رَبكم فاستجاب لكُم جز ۱۳ صفحه ۴۱۰ مطبوعہ ۲۰۰۰ء الناشر مؤسسة الرسالة البقره : ۲۴۴