خطبات محمود (جلد 20) — Page 445
خطبات محمود ۴۴۵ سال ۱۹۳۹ ء ہماری لاشوں کو روندتا ہوا نہ گزرے کے اب دیکھو ا نہوں نے یہ نہیں کہا کہ جب خدا کا ہم سے وعدہ ہے کہ وہ ہمیں فتح دے گا اور کفار پر ہمیں غلبہ عطا کرے گا تو ہماری جانوں کو کیوں خطرہ میں ڈالا جاتا ۔ جاتا ہے بلکہ اُنہوں نے ہر ممکن قربانی کے لئے اپنے آپ کو پیش کر دیا۔ وہ اِس اعتراض کو جانتے تھے جو موسیٰ کی قوم نے کیا اور غالبا اس انصاری نے اس خیال سے کہ ممکن ہے ہم میں سے بھی بعض کمزور ایمان والے یہ سمجھیں کہ جب خدا کا ہم سے فتح کا وعدہ ہے تو ہم سے جانی قربانی کا مطالبہ کیوں کیا جاتا ہے؟ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم کے واقعہ کو ہی دہرایا اور کہا يَا رَسُولَ اللہ ! ہم موسیٰ کی قوم کی طرح نہیں جس نے حضرت موسیٰ سے کہہ دیا تھا کہ ما ذهب انتَ وَ رَبُّكَ فَقَاتِلَا انَّا هُهُنَا قَاعِدُونَ سے جا تو اور تیرا خدا دشمن سے لڑتے پھریں ہم تو یہیں بیٹھے ہیں بلکہ یا رسول اللہ ! ہم آپ کے دائیں بھی لڑیں گے اور بائیں بھی لڑیں گے، آپ کے آگے بھی لڑیں گے اور آپ کے پیچھے بھی لڑیں گے اور کسی دشمن کو اس وقت تک آ کے پاس پہنچنے نہیں دیں گے جب تک کہ وہ ہماری لاشوں کو روند تا ہؤا نہ گزرے۔ اب صحابہ نے یہ نہیں کہا کہ ہم کیوں لڑیں کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اس قسم کے وعدے تدبیر کامل کے بعد پورے ہوا کرتے ہیں۔ پھر اُسی لڑائی میں باوجود کامیابی کے وعدے کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی اور اتنی دُعا کی کہ آخر آپ کی زبان پر یہ الفاظ جاری ہو گئے کہ اے خدا! مسلمانوں کی تھوڑی سی جماعت اس وقت دشمن کی ایک کثیر جماعت کے مقابلہ میں ہے ۔اے اللہ ! اگر یہ لوگ بھی مارے گئے تو پھر دُنیا میں تیرا نام لینے والا کوئی باقی نہیں رہے گا ۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ جو اُس وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا پہرہ دے رہے تھے اُنہوں نے جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے یہ فقرہ سُنا تو انہیں چُھا اور اُنہوں نے کہا یا رسول اللہ ! کیا خدا کا ہم سے یہ وعدہ نہیں کہ ہم فتح پائیں گے؟ آپ نے فرمایا بے شک خدا کا یہ وعدہ ہے کہ وہ ہمیں فتح دے گا مگر خدا غنی بھی ہے اور بندے کا پھر بھی یہی کام ہے کہ وہ دُعا میں لگا رہے۔ کے پس باوجود کامیابی کے وعدہ کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تدبیریں بھی کیں ، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعائیں بھی کیں اور اس سوز ، اس درد اور اس گھبراہٹ کے ساتھ کیں کہ آپ کی زبان - ن سے یہ الفاظ نکل گئے کہ اے خدا ! اگر آج تیری یہ جماعت ماری ماری گئی تو فَلَنْ تُعْبَدَ