خطبات محمود (جلد 20) — Page 434
خطبات محمود لد لامه له سال ۱۹۳۹ ء کر دے دیں گی اور جو خدشہ پیش کیا جا رہا ہے درست نہیں ۔ اس اعتراض کا جائزہ لینے کے لئے ہم صورت حالات کو واقعات کے لحاظ سے دیکھتے ہیں ۔ اس وقت جنگی خطرہ سب سے بڑھ کے جرمنی کی طرف سے ہے جس کی پشت پر روس ہے جس نے آہستہ آہستہ اب اپنے پاؤں نکالنے شروع کئے ہیں ۔ اب ہم دیکھتے ہیں کہ ان دونوں حکومتوں سے تبلیغ کے راستہ میں روک واقع ہو گی یا مذہبی آزادی پہلے سے بھی زیادہ ہو جائے گی۔ میں اس مقابلہ میں سب سے پہلے جرمنی کو لیتا ہوں ۔ - ہر ہٹلر نے اپنی کتاب مائنے کامیف میں جس میں اس نے اپنی حکومت کے اصول واضح کئے ہیں لکھا ہے کہ جس قوم کا مرکز باہر ہو وہ جرمن حکومت کے ماتحت نہیں رہ سکتی ۔ وہ لکھتا ہے کہ یہ کیونکر برداشت کیا جا سکتا ہے کہ ایک قوم پر حکومت کرنے والے کسی اور جگہ ہوں اور اس کو ماننے والے ہمارے پاس ہوں ۔ اس کے معنی تو یہ ہوئے کہ ہماری حکومت میں بعض لوگ رہتے ہوں مگر وہ دراصل ہمارے تابع فرمان نہ ہوں اور یہ امر قطعاً برداشت نہیں کیا جا سکتا ۔ اب بتاؤ اس اصل کے ماتحت احمدیت کا جرمن حکومت کے ماتحت کہاں ٹھکانا ہے ۔ احمدیت کا مرکز حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے قادیان مقرر فرمایا ہے۔ اب فرض کرو قادیان انگریزوں یا اٹلی کے ماتحت ہو اور دوسرے علاقے جن میں احمدی کثرت سے ہوں جرمن کے ما تحت ہوں تو یقیناً اس اصل کے ماتحت جرمن حکومت احمدیوں پر ظلم شروع کر دے گی اور اگر اس کے برخلاف قادیان جرمنی حکومت کے ماتحت چلا جائے تو اٹلی وغیرہ حکومتیں اپنے علاقوں میں احمدیت کو نہیں پھیلنے دیں گی ۔ کیونکہ وہ بھی اسی قسم کے اصول کی ماننے والی ہیں ۔ دوسرا اصل جو پہلے سے بھی زیادہ خطرناک ہے یہ ہے کہ وہ اپنی کتاب میں لکھتا ہے ہم کسی ایسے مذہب کو اپنے ملک میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دے سکتے جس کے اقتصادی ، تجارتی اور سوشل قوانین مذہب نے بنائے ہوں اور دراصل یہی وہ وجہ ہے جس کی بناء پر وہ یہودیوں کا سخت دشمن ہے ۔ وہ کہتا ہے یہ بات کسی طرح جائز تسلیم نہیں کی جاسکتی کہ ایک ملک کے متعلق دو قانون ساز ہستیاں ہوں۔ میں کچھ کہوں اور وہ وہ کچھ کہے۔ میں لوگوں کو کسی اور شاہراہ پر چلانا چاہوں اور وہ اپنے مذہب کی مقرر کردہ شاہراہ پر چلیں مثلاً میں کہتا ہوں فلاں چیز کھاؤ اور