خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 407 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 407

خطبات محمود ۴۰۷ سال ۱۹۳۹ ء طاقت اس کے بعد میں نے دیکھا کہ وہ اژدہا پانی ہو کر بہہ گیا اور میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ دیکھا دُعا کا کیسا اثر ہو ا رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیشک یہ فرمایا تھا کہ لا يــــانِ لِأَحَدٍ بِقِتَالِهِمَا ( مجھے اس وقت نہیں یاد کہ حدیث میں ھم یا هِمَا ہے لیکن رویا میں میں نے هِمَا ہی کہا ہے اِس لئے رویا کے الا کے الفاظ ہی لکھے گئے ہیں مگر آپ ) مگر آپ کا مفہوم یہ تھا کہ کوئی طاقتہ دنیوی طاقتوں میں سے ان کا مقابلہ نہیں کر سکے گی اور اگر کوئی چاہے گا کہ اپنے ہاتھوں کے زور سے ان کو مٹا دے تو یہ ناممکن ہو گا ۔ آپ نے اس میں کہیں بھی یہ نہیں فرمایا کہ دُعا سے بھی یہ فتنہ فرونہیں ہوگا ۔ چنانچہ دیکھو جب میں نے اپنے ہاتھ اس کے مقابلہ کی غرض سے اس کی طرف بڑھانے کے بجائے خدا تعالیٰ کی طرف بڑھائے تو یہ پانی ہو کر بہہ گیا۔ اس رؤیا کے ماتحت میں سمجھتا ہوں کہ ممکن ہے یہ جنگ ہندوستان کے اندر بھی آ جائے ۔ خوا میں چونکہ تعبیر طلب ہوتی ہیں اس لئے یقینی طور پر نہیں کہا جا سکتا کہ اس کی یہی تعبیر ہے لیکن ممکن ہے اس کی یہی تعبیر ہو اور اگر ایسا ہی ہوا تو یہ امر کوئی بعید نہیں کہ جنگ کے شعلے ہندوستان کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیں ۔ ہماری جگہ تک اس اثر دہا کے پہنچنے کے یہی معنے ہیں کہ وہ جنگ ہندوستان میں آ جائے یا اس کے اثرات ہندوستان کے لوگوں تک بھی پہنچیں ۔ گویا دونوں طرح ہندوستان اس میں شریک ہو سکتا ہے۔ اس رنگ میں بھی کہ یہ جنگ ہندوستان میں آجائے اور اس رنگ میں بھی کہ اس جنگ کے اثرات اتنے وسیع ہو جائیں کہ ہندوستان کے بھی لاکھوں لوگ اس جنگ کی وجہ سے زخم خوردہ ہو جائیں اور وہ بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہیں ۔ پھر گزشتہ سال کی مجلس شوری کے موقعہ پر میں نے اپنا ایک رؤیا بیان کیا تھا کہ ہم ایک کشتی میں بیٹھے ہیں جو سمندر میں ہے اور سمندر بہت وسیع ہے ۔ ایک طرف برطانوی علاقہ ہے اور سمندر کے دوسری جہت میں ایک دشمن کا علاقہ ہے۔ اتنے میں یکدم شور اُٹھا اور گولہ باری کی آواز آنے لگی اور اتنی کثرت اور شدت سے گولہ باری ہوئی کہ یوں معلوم ہوتا تھا کہ گویا ایک گولے اور دوسرے گولے کے چلنے میں کوئی فرق نہیں ۔ اسی اثنا میں میں نے محسوس کیا کہ ہم پانی کے نیچے ہیں اور گویا طوفانِ نوح کی طرح دنیا پانی میں غرق ہو گئی ہے لیکن آخر اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہم بچ گئے ہیں ۔ یہ خواب تفصیل کے ساتھ مجلس شوری کی رپورٹ میں چھپ چکی ہے۔