خطبات محمود (جلد 20) — Page 378
خطبات محمود ۳۷۸ سال ۱۹۳۹ ء کے طور پر اب تک وہاں موجود ہیں ۔ غرض اس آخری لمحہ میں جب ہسپانوی اسلامی حکومت کا صرف آخری شہر باقی تھا اور دشمن نے اس کا چاروں طرف سے محاصرہ کیا ہوا تھا اور عیسائی بادشاہ نے مسلمان بادشاہ کو کا سے آخری نوٹس دے دیا تھا کہ یا تو ہم اس شہر کو فتح کر کے تم سب کو قتل کر دیں گے یا پھر آخری موقع ب دیں گے یا ہم تمہیں یہ دیتے ہیں کہ تم اپنا بوریا بستر باندھ کر یہاں سے چلے جاؤ ۔ ہم تمہیں جانے کی اجازت دے دیں گے اور تم میں سے کسی کو قتل نہیں کریں گے ۔ چنانچہ اُنہوں نے دو تین جہاز بھی مقرر کر دیئے اور کہہ دیا کہ جتنا سامان ان جہازوں پر آسکے اُتنا سامان لا دلیا جائے اور باقی سب شہر میں ہی رہنے دیا جائے ۔ مسلمانوں کی مجلس اس الٹی میٹم پر غور کرنے کے لئے منعقد ہوئی اور مشورہ ہونے لگا کہ اب انہیں کیا کرنا چاہئے ۔ بعض مورخین کا خیال ہے کہ اگر وہ ایمانی جرات سے کام لیتے اور عیسائی لشکر سے لڑائی کے لئے تیار ہو جاتے تو شائد وہ کامیاب ہی ہو جاتے ۔ کیونکہ وہ اتنے کمزور نہیں تھے کہ عیسائی لشکر کا مقابلہ نہ کر سکتے مگر چونکہ سب کے دلوں پر یہ رعب تھا کہ اسلامی حکومت کے ہاتھ سے ایک ایک کر کے تمام شہر نکل گئے ہیں اور اب صرف یہی ایک شہر باقی رہ گیا ہے ۔ اس لئے اُنہوں نے سمجھا کہ اب ہمارا مقابلہ کرنا فضول ہے۔ چنانچہ ایک کے بعد دوسرے اور دوسرے کے بعد تیسرے رئیس کے سامنے یہ سوال پیش ہوا اور ہر ایک نے پُر نم آنکھوں سے کہا کہ جواب تو ظاہر ہی ہے۔ ہم میں اب مقابلہ کی کوئی طاقت نہیں ۔ جس وقت بڑے بڑے رؤساء اور لیڈر یہ جواب دے رہے تھے ایک نوجوان فوجی افسر کھڑا ہوا اور اس نے کہا میرے نزدیک اسلامی غیرت ہمیں یہ جواب دینے کی اجازت نہیں دیتی ۔ میرے نزدیک ہمیں عیسائیوں کا اپنی پوری قوت سے مقابلہ کرنا چاہئے ۔ اگر ہم مارے گئے تو شہید ہوں گے اور اگر جیت گئے تو دُنیا میں عزت کی زندگی بسر کر سکیں گے۔ اُس کے اس جواب کو تمام درباریوں نے تعجب کی نگاہ سے دیکھا اور کہا تم یہ کیا کہتے ہو؟ کیا ہمارے دلوں میں جوش نہیں؟ کیا ہمارے قلوب میں ایمان نہیں؟ جوش اور ایمان ہمارے دلوں میں بھی ہے مگر ہم جانتے ہیں کہ ہم میں اب لڑنے کی طاقت نہیں ۔ جب تمام درباریوں اور تمام چھوٹوں اور بڑوں نے یہ جواب دیا تو اُس اکیلے نوجوان نے جبکہ عیسائیوں کی ایک لاکھ فوج شہر کا محاصرہ کئے پڑی تھی