خطبات محمود (جلد 20) — Page 370
خطبات محمود ٣٧٠ سال ۱۹۳۹ ء کہلاتے ہیں۔ میرے دل نے محسوس کیا کہ اللہ تعالیٰ کا فضل انسان پر اس لئے ہوتا ہے کہ وہ دوسروں سے سے حسن سلوک کرے۔ گو بعض اخلاقی اور قانونی مصلحتیں ، امیرے رستہ میں روک بن رہی تھیں مگر میں نے غور کر کے ایک رستہ نکال لیا ہے اور اب میں اعلان کرتا ہوں کہ میں اس بات کے لئے تیار ہوں کہ ان کو نماز عید و استسقاء کے لئے زمین دے دوں ۔ ۶۰ × ۵ ۷ فٹ کا ایک کنال ہوتا ہے ۔ ۲ فٹ میں ایک آدمی کھڑا ہوتا ہے ۔ گویا ساٹھ فٹ میں تمھیں آدمی آ سکتے ہیں اور چارفٹ کی جگہ ایک صف کے لئے کافی ہوتی ہے۔ اس لئے ۷۵ فٹ میں اٹھارہ صفیں بن جاتی ہیں ۔ گو لوگ تین فٹ بھی کافی سمجھتے ہیں مگر میں چارفٹ رکھتا ہوں اور اس حساب سے ایک کنال میں ۵۴۰ آدمی آ جاتے ہیں ۔ یہاں سارے غیر احمدی چھ سات سو ہیں مگر عیدین اور استسقاء وغیرہ مواقع پر باہر سے بھی آجاتے ہیں اور عورتیں بچے بھی شامل ہو جاتے ہیں ۔ اس لئے دو کنال زمین قادیان کے غیر احمدیوں کی نماز عید واستسقاء کے لئے کافی ہے اور وضو کی جگہ اور جوتیوں وغیرہ کے لئے جگہ بلکہ ان کی آئندہ ضرورتوں کا بھی خیال کر کے میں سمجھتا ہوں کہ چار کنال زمین ان کی سب ضرورتوں کو پورا کر سکتی ہے اور میں اس قدر زمین انہیں ان اغراض کے لئے دینے کے لئے تیار ہوں مگر شرط یہ ہوگی کہ وہ اسے ہمارے خلاف استعمال نہ کرسکیں گے۔ وہ اپنا ایک ٹرسٹ اور رجسٹر ڈ انجمن بنالیں اور میں وقف کی صورت میں یہ زمین انہیں دے دوں گا مگر شرط یہ ضروری ہوگی کہ اسے ہمارے خلاف استعمال نہ کیا جا سکے گا۔ اسی طرح یہ بھی کہ غیر احمدیوں کو وہاں نماز کا حق ہو گا مگر احمدی کہلانے والے ہمارے مخالفوں کو اس کے استعمال کا حق نہ ہوگا۔ یہاں بڑی بڑی قو میں کشمیری ، آرائیں اور کمہار ہیں۔ میرے نزدیک بہتر ہو گا کہ ان کا ایک ایک نمائندہ چن لیا جا ہے اسی طرح ایک نمائندہ بقیہ اقوام سے ہو جو تھوڑی تھوڑی تعداد میں ہیں اور ایک نمائندہ پرانے امام خاندان سے ہو جو میاں شمس الدین صاحب کا خاندان ہے ۔ وہ ہمارے استاد بھی تھے ان نمائندوں کے ٹرسٹ کے سپرد میں یہ زمین کردوں گا۔ انشاء اللہ وہاں رہٹ والا کنواں بھی لگوا دوں گا بلکہ میرا یہ بھی ارادہ ہے کہ اگر محبت سے یہ لوگ معاملہ طے کریں تو وہاں پھلدار درختوں کے لگانے کے لئے کچھ زائد زمین بھی دے دوں اور اس میں خود درخت لگوا دوں تا ضرورت کے وقت سایہ سے بھی یہ لوگ فائدہ اُٹھائیں اور پھلوں