خطبات محمود (جلد 20) — Page 337
خطبات محمود ۳۳۷ سال ۱۹۳۹ ء اگر ہمیں خدا نے بخش دیا ہے تو کیا ہم شکر گزاری کے طور پر پہلے سے بھی زیادہ قربانیاں نہ کریں؟ پس باوجود اس بات کے کہ خدائی الہام ان کی تائید میں تھا جیسے میں نے بتایا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے الہام کی بنا پر خالد کو سَيْفٌ مِّنْ سُيُوفِ اللہ قرار دیا مگر انہوں نے چین اور آرام سے بیٹھنا اپنے لئے جائز نہ سمجھا اور خالد نے اپنے دل میں فیصلہ کر لیا کہ جب خدا نے مجھے اپنی تلوار کہا ہے تو اب اس تلوار کو نیام میں نہیں آنا چاہئے ۔ تلوار تو میدان جنگ میں ہی اچھی لگتی ہے۔ چنانچہ وہ دشمن کے مقابلہ میں ڈٹے رہے اور کوئی موقع ایسا نہیں آیا جس میں وہ اپنی جان کو ہتھیلی پر رکھ کر میدان جنگ میں نہ کود گئے ہوں ۔ یہ گویا اللہ تعالیٰ کے اس انعام کی شکرگزاری کی انتہا تھی کہ اس نے ایک نبی پر ایمان لانے کی سعادت سے انہیں بہرہ اندوز فرمایا اور اس احسان کا حقیر شکرا نہ تھا جو خدا نے اس رنگ میں ان پر کیا کہ انہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شناخت کی توفیق بخشی ۔ غرض انسانی فطرت کا حُسن و جمال ایسے نمایاں طور پر ان لوگوں میں ظاہر ہوا کہ ان کو دیکھ کر وہ تمام خیالات مٹ جاتے ہیں جو شیطان کے اس دعوے سے بعض لوگوں کے دل میں پیدا ہوتے ہیں کہ آدم کے بیٹے دُنیا میں خون بہائیں گے اور فساد کریں گے ۔ جب انسان قربانی اور اخلاص کے ان عظیم الشان نمونوں کو دیکھتا ہے تو وہ بے اختیار چلا اٹھتا ہے کہ لعنتی تھا شیطان ، جھوٹا تھا شیطان اور سچا تھا وہ خدا جس نے آدم کو پیدا کیا جس کی نسل سے ایسے قیمتی وجود دنیا میں ظاہر ہوئے ۔ یہ تو اس بے نظیر انسان کی مثال ہے جو گو ابتدائی زمانہ میں اسلام کے مقابلہ میں لڑتا رہا مگر بعد میں خدا تعالیٰ نے اسے تو بہ نصیب کی اور وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شامل ہو کر اسلامی غزوات میں حصہ لیتا رہا۔ پھر معمولی آدمیوں کی طرح نہیں بلکہ اس رنگ میں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے عزت کے مقام پر کھڑا کیا۔ نہ صرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہی بلکہ خدا نے بھی اسے ایک عزت کا خطاب دیا مگر اس کے علاوہ اور لوگ بھی تھے اور گو وہ درجہ میں کم تھے مگر احسان مندی اور شکر گزاری کی مثالیں ان میں بھی ایسی شاندار نظر آتی ہیں کہ دل ان کو دیکھ کر فرط مسرت سے لبریز ہو جاتا ہے اور وہ ایسی مثالیں ہیں جو ایمان کو تازہ کر دیتی ہیں ۔ کردیا مکہ کے بعض بڑے بڑے لوگ جو کفار کے لیڈر تھے ان کی عظمت کو آج پوری طرح نہیں