خطبات محمود (جلد 20) — Page 272
خطبات محمود ۲۷۲ سال ۱۹۳۹ ء کی ذات سے ہونی چاہئے ۔ صحابہ کو تو ہر بات میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا کرنے کا اس قدر شوق تھا کہ ایک دفعہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ایک جگہ پیشاب کرنے کے لئے بیٹھ گئے ۔ چونکہ تھوڑے ہی فاصلہ پر پڑاؤ آنے والا تھا اس لئے کسی نے ان سے کہا کہ آپ نے خواہ مخواہ قافلے کو روکا اور وقت ضائع ہوا۔ جب تھوڑی ہی دیر میں پڑاؤ آنے والا تھا تو آپ کو چاہئے تھا کہ وہاں پہنچ کر حوائج سے فارغ ہوتے ۔ دوسرے اگر آپ نے قافلہ کو روکنا ہی تھا تو فلاں جگہ بھی تو اوٹ تھی آپ وہاں کیوں نہ بیٹھ گئے؟ اتنی دور جا کر آپ کیوں بیٹھے؟ حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے جواب دیا خدا کی قسم مجھے پیشاب تو نہیں آیا تھا بات دراصل یہ ہے کہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک دفعہ اسی جگہ پیشاب کے لئے بیٹھتے دیکھا تھا۔ پس میں نے چاہا کہ آپ کی سنت میں میں بھی اس جگہ تھوڑی دیر کے لئے بیٹھ جاؤں سے تو اُن کا رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہر حرکت کی اقتداء میں خواہ وہ طبعی ہی کیوں نہ ہو وہ ایک لذت اور سرور محسوس کرتے تھے۔ گجا یہ کہ وہ احکام جو شرعی اور قومی حیثیت رکھتے ہیں ان میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اقتداء نہ کی جائے ۔ ایک زمانہ ایسا گزرا ہے کہ ہر مسلمان پڑھا لکھا ہوا کرتا تھا اور عیسائی اپنے متعلق اس بات پر فخر کیا کرتے تھے کہ ہم ان پڑھ ہیں چنانچہ مسلمانوں کی پُرانی تاریخیں پڑھ کر حیرت آتی ہے کہ اب زمانہ میں کس قدر اُلٹ انقلاب پیدا ہو گیا ہے ۔ اُن تاریخوں میں جہاں عیسائیوں کا ذکر آتا ہے وہاں لکھا ہوا ہے کہ عیسائی وہ ہوتا ہے جو ان پڑھ ہو، جس کے کپڑے نہایت غلیظ ہوں ، جس کے جسم سے بد بو آتی ہو، جس نے نہ کبھی غسل کیا ہو نہ خوشبو لگائی ہو، اس کے بال بڑھے ہوئے ہوں ، ان میں جوئیں پڑی ہوئی ہوں اور ناخنوں میں بھی میل جمی ہوئی ہو اور مسلمان وہ ہوتا ہے جو پڑھا لکھا ہو، صاف ستھرا ہو، غسل با قاعدہ کرتا ہو، بال کٹے ہوئے ہوں ، ناخن ترشوائے ہوئے ہوں ، کپڑے صاف اور دھلے ہوئے ہوں اور خوشہ ہوں اور خوشبو لگی ہوئی ہو مگر آج اس کے بالکل الٹ نظارہ نظر آتا ہے ۔ چنانچہ جتنی باتیں اُس وقت عیسائیوں میں پائی جاتی تھیں وہ آج مسلمانوں میں پائی جاتی ہیں اور جتنی باتیں وں ں میں پائی جاتی تھیں وہ آج عیسائیوں میں پائی جاتی ہیں۔ میں نے اس کے متعلق جو کتاب پڑھی ہے وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے