خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 261 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 261

خطبات محمود ۲۶۱ سال ۱۹۳۹ ء ایک شخص جس نے ترکی لباس پہنا ہوا ہے مجھے کہتا ہے کہ کیا میں انگریزی میں گفتگو کروں؟ اس کے بعد کوئی وجہ تو مجھے معلوم نہیں مگر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہم اس جگہ کو چھوڑ کر تھوڑے فاصلہ پر ہی دوسری جگہ پر جا بیٹھے ہیں ۔ اس جگہ کی تبدیلی کی کوئی وجہ مجھے معلوم نہیں ۔ شاید اندھیرا تھا اور ہم روشنی میں آنا چاہتے تھے خیر اس جگہ ان لوگوں میں سے ایک شخص نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی عربی پر اعتراض کرنے شروع کئے اور نتیجہ یہ نکلا کہ یہ شخص ما مور کس طرح ہو سکتا ہے؟ اس وقت مجھے یہ احساس ہے کہ ان میں سے ایک شخص احمدیت سے متاثر ہو چکا ہے اور یہ لوگ اس لئے نہیں آئے کہ خود تحقیق کریں بلکہ اُن کی غرض یہ ہے کہ اُسے خراب کریں اور ان میں سے ایک ہنس کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتاب لحجتہ النور یا شاید کسی اور کتاب کا نام لیتا اور کہتا ہے کہ وہ کتاب ہو تو ہم اس میں سے حوالہ پڑھ کر بھی سنا سکتے ہیں ۔ ان کے سوال کے جواب میں میں نے عربی زبان میں جواب دینا شروع کیا اور اس وقت یوں معلوم ہوتا ہے کہ جیسے ایک اہلِ زبان قادر ہوتا ہے میں بے تکلفی سے عربی زبان میں باتیں کر رہا ہوں اور کوئی حجاب معلوم نہیں ہوتا۔ میں نے ان سے کہا کہ اعتراض تو ہر بڑی سے بڑی سچائی پر بھی ہو سکتا ہے کوئی ایسی صداقت نہیں جس پر لوگوں نے اعتراض نہ کئے ہوں اور یہ سوال بے شک آپ کے نزدیک وقیع ہوں مگر میں تو اس وقت چند منٹ سے زیادہ آپ لوگوں کو نہیں دے سکتا ۔ ہم نے ابھی کھانا بھی نہیں کھایا اور پھر صبح اسکندریہ جانا ہے اور وہاں سے واپس آ کر حج کے لئے روانہ ہونا ہے۔ اگر دو چار منٹ میں میں آپ کے سوالات کا جواب دوں تو اوّل تو آپ کی تسلی نہیں ہو سکے گی اور اگر ہو بھی جائے تو آپ کہیں گے ابھی فلاں سوال رہ گیا اور اگر میں ان کا جواب نہ دوں گا تو آپ کہیں گے آتا نہیں تھا۔ پھر یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ان پر اور اعتراض پڑتے ہوں پھر ان کا جواب دینا ضروری ہوگا اور اتنا وقت میرے پاس نہیں ۔ اس کا حل میں ایک آسان ترکیب سے کر دیتا ہوں ہر صداقت کے متعلق کچھ گر ہوتے ہیں جن سے اس کو پرکھا جا سکتا ہے۔ پس قرآن کریم نے جو گر بیان کئے ہیں اگر تو ان کے رو سے یہ ثابت ہو کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا دعوی سچا ہے تو پھر اعتراضات کا یہ مطلب ہوگا کہ ہمارے خیال کی غلطی ہے کیونکہ قرآن کریم غلط نہیں ہو سکتا اور اگر ان گروں کے رو سے آپ سچے ثابت