خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 241 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 241

خطبات محمود ۲۴۱ ۱۶ سال ۱۹۳۹ ء توسیع مساجد کے لئے چندہ کی تحریک اور قادیان سے ناخواندگی کوڈ ورکرنے کی سکیم (فرموده ۱۹ مئی ۱۹۳۹ء ) تشہد ، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :- میں نے گزشتہ سے گزشتہ خطبہ جمعہ میں مساجد احمد یہ کے لئے چندہ کا اعلان کیا تھا اور خدام الاحمدیہ کے یہ کام سپرد کیا تھا۔ قادیان میں اُنہوں نے چندہ جمع کرنے کی تو کوشش کی ہے مگر اتفاقا ان کی ایک لسٹ جو ہمارے گھر میں پہنچی اُسے دیکھ کر مجھے حیرت ہوئی کہ گو وہ تعلیم یافتہ نو جوان ہیں اور میرے خطبات کا مضمون بھی واضح تھا یہ چندہ ایسی نادانی سے جمع کیا گیا ہے کہ تحریک کو ہی ضائع کر دیا ہے۔ اتفاقاً ان کی ایک لسٹ میرے ہاتھ آگئی جو کسی آدمی نے ہمارے ہاں بھجوائی تھی اس میں ہر ایک کے نام کے آگے ایک ایک آنہ لکھا تھا حالانکہ میں نے یہ کہا تھا کہ ایک آنہ سے لے کر دس روپیہ تک اس میں دیا جاسکتا ہے مگر ان لوگوں نے غالباً نادانی اور نا تجربہ کاری سے یہ خیال کر لیا کہ خطبہ تو ہر ایک شخص کو یاد ہی ہوگا اور پھر جس کا ارادہ زیادہ دینے کا ہو گا وہ زیادہ دے دے گا ۔ ان کی پہلی غلطی تو یہ تھی کہ انہوں نے یہ خیال کر لیا کہ خطبہ سب کو یاد ہی ہو گا اور دوسری یہ کہ انہوں نے خیال کر لیا کہ جس نے زیادہ دینا ہو گا خود ہی دے دے گا۔ ان کا یہ خیال انسانی فطرت سے نا واقعی کی دلیل ہے۔ جب کسی سے ایک آنہ مانگا جائے تو