خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 23 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 23

خطبات محمود ۲۳ سال ۱۹۳۹ ء کھلوانے کے لئے باہم صلح کر لیں اور وہ اس طرح کہ ہم بھی وہاں اپنا کام بند کر دیتے ہیں اور آپ بھی کریں ۔ بظاہر یہ خوشنما تجویز ہے اس سے مسلمان نمائندے اسے قبول کرنے کے لئے فوراً تیار ہو جائیں گے مگر تم کہنا کہ آپ لوگوں نے ہمارے گھر پر قبضہ کر لیا ہے اور اس وقت اب صلح کرنے میں آپ کو فائدہ ہے مگر ہمارا سراسر نقصان ہے۔ ملکا نے مسلمان تھے۔ ان میں سے آپ لوگ ہمیں ہزار کو مرتد کر چکے ہیں اور اب صلح کی یہی صورت ہو سکتی ہے کہ ان سب کو کلمہ پڑھوا دو۔ ورنہ اس وقت تک ہمیں تبلیغ کی اجازت ہونی چاہئے جب تک ان کو مسلمان نہ بنا لیں ۔ اس کے بعد اگر باقی مسلمان کہیں گے تو ہم بھی وہاں کام بند کر دیں گے اور کہیں اور کام شروع کر دیں گے۔ جب ہمارے نمائندے وہاں پہنچے تو بعینہ ایسی ہی صورت وہاں پیش آئی ۔ سوامی شردھانند صاحب نے کہا کہ گاندھی جی کو ممنون کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم بھی وہاں کام بند کر دیں اور مسلمان بھی بند کر دیں۔ اس پر میرے نمائندوں نے کہا کہ آریہ میں ہزار مسلمانوں کو اپنے ساتھ ملا چکے ہیں اور ہم تو ان کے پیچھے محض اصلاح کے لئے گئے ہیں۔ صلح مساوی شرائط پر ہی ہو سکتی ہے ۔ ہے۔ اس لئے یہ وہ ہیں ہزار آدمی واپس کر دیں اور یا پھر ہمیں اتنی دیر وہاں کام کرنے کی اجازت ہو جب تک کہ ہم اتنے آدمیوں کو مسلمان نہ بنالیں ورنہ مساوات نہیں قائم ہوسکتی ۔ ہم في الحال وہاں کام کریں گے اور جب ان لوگوں کو اسلام میں داخل کر لیں گے جو مرتد ہو چکے ہیں تو چونکہ یہ لوگ احمدی نہیں ، عام سُنی ہیں اس لئے اگر مسلمانوں نے چاہا ہم اس طریق کی تبلیغ وہاں بند کر دیں گے اور اپنے کام کے لئے دوسرا علاقہ چن لیں گے۔ اس جواب کو سُن کر مسلمانوں کے نمائندوں نے کہا کہ احمدی ہمیشہ فساد ہی کرتے رہے ہیں ۔ ان کی نیت ہی یہ ہے ۔ کہ ملک میں امن نہ ہو۔ چلو ہم صلح کرتے ہیں ۔ یہ مٹھی بھر جماعت کیا کر سکتی ہے، ان کو شور مچانے دو ۔ مگر سوامی شردھانند صاحب نے کہا کہ تم لوگوں کا تو کوئی آدمی وہاں ہے ہی نہیں ۔ تمہارے ساتھ میں صلح کیا کروں ۔ جب تک احمدیوں کے ساتھ صلح نہ ہو صلح نہیں ہو سکتی اور ۔ نہ اس طرح ان بے شرم علماء کو جو ملکانوں کے ارتداد پر اپنی رضا کی مہر لگانے کو تیار ہو گئے تھے