خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 224 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 224

خطبات محمود ۲۲۴ سال ۱۹۳۹ ء معمولی بات ہے کسی کا پہلے وصول ہو گیا اور کسی کا بعد میں مگر افسوس یہ ہے کہ جو بلی فنڈ کا چندہ بھی اس رفتار سے وصول نہیں ہو رہا کہ سمجھا جائے وہ تحریک جدید کے چندوں کی وصولی کے رستہ میں روک بن رہا ہے البتہ صدر انجمن احمد یہ کے چندہ میں گزشتہ دو ماہ میں خوشکن زیادتی ہوئی ہے جس میں شوری کے مقرر کردہ چندہ کردہ چندہ سے دو ہزار روپیہ زائد آیا ہے ۔ چندہ عام اور حصہ آمد کی رقم دولاکھ تھیں ہزار تھی مگر خدا تعالیٰ کے فضل سے دولاکھ بتیس ہزار پانچ یا چھ سو وصول ہوا ہے ۔ گویا جماعت نے چندہ عام اور وصایا کی طرف زیادہ توجہ کی ہے اور یہ بتاتا ہے کہ جوں جوں بچے جوان ہوتے اور بے کار کام حاصل کرتے ہیں اور آمد رکھنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا ہے جماعت کا قدم ترقی کی طرف اُٹھ رہا ہے اور اگر یہی حالت رہی تو اسراف سے بچنے کے لئے جو میں نے ہدایات دی ہیں ان پر عمل کرتے ہوئے مالی لحاظ سے جو دقتیں اس وقت در پیش ہیں وہ دور ہو جائیں گی مگر صدر انجمن احمد یہ کے چندوں میں یہ اتنی ترقی نہیں جتنی کمی تحریک جدید کے چندوں میں ہے ۔ یہ کمی دراصل اس وجہ سے ہوتی ہے کہ انسان سمجھتا ہے کل دے دوں گا ۔ یہ بھی نفس کا دھوکا ہوتا ہے۔ انسان سمجھتا ہے آج نہیں کل دے دیں گے اور کل کہہ دیتا ہے کہ پرسوں دے دیں گے۔ پھر بعض اوقات وہ سمجھتا ہے یہ بھی دینا ہے اور وہ بھی دینا ہے اور وہ گھبرا کر بجائے اس کے کہ کوشش کو زیادہ کرے ہمت ہار بیٹھتا ہے اور جب بوجھ زیادہ ہو جاتا ہے تو وہ پھر بالکل ہی کوشش چھوڑ دیتا ہے۔ پنجابی کی ایک ضرب المثل ہے جس کے صحیح معنی تو میں نہیں جانتا مگر مفہوم سمجھتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ چڑھیا سوتے لتھا بھو۔ بھو کے لفظی معنی تو میں نہیں جانتا لیکن اس کا مطلب میرے نزدیک یہ ہے کہ جب کسی انسان پر سو روپیہ قرض ہو جاتا ہے تو وہ بے باک ہو جاتا ہے اور قرضے کا خوف جاتا رہتا ہے ۔ وہ سمجھتا ۔ وہ سمجھتا ہے سو کون ادا کرے جب تک دس ہیں یا تمیں چالیس قرض ہو وہ جدو جہد کرتا ہے کہ اُتر جائے مگر جب سو ہو جائے تو وہ سمجھتا ہے کہ اب یہ اتر نا تو ہے نہیں جانے دو کیا کوشش کرنی ہے تو بعض کمز و رطبع لوگ جب ان پر زیادہ بوجھ ہو جائے تو بجائے اس کے کہ ذمہ داریاں ادا کرنے کی زیادہ جدو جہد کریں چُپ بیٹھ جاتے ہیں ۔ ایک بزدل انسان کے نقطۂ نگاہ سے تو ممکن ہے یہ حالت تسلی بخش ہو لیکن یہ ایسی بات ہے جیسے کبوتر بلی کو دیکھ کر آنکھیں بند کر لیتا اور سمجھتا ہے کہ اب میں چونکہ اسے دیکھ نہیں سکتا