خطبات محمود (جلد 20) — Page 190
خطبات محمود ۱۹۰ سال ۱۹۳۹ ء تو یہ دن نه د ا نہ دیکھنا پڑتا بلکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رضا اور ثواب حاصل کر سکتے تو بہت سے لوگ اس لئے محروم رہ جاتے ہیں کہ وہ خیال کر لیتے ہیں کہ کل کر لیں گے ۔ حالانکہ کون کہہ سکتا ہے کہ کل موقع ملے یا نہ ملے ۔ اس لئے جب بھی موقع ملے فوراً اس سے فائدہ اُٹھانا چاہئے ۔ پس میں دوستوں کو پھر توجہ دلاتا ہوں کہ وعدے سوچ کر کیا کریں اور جب وعدہ کیا کریں تو اُس کے پورا کرنے میں دیر نہ کیا کریں۔ نماز کے بعد اب وہ شوری میں بیٹھیں گے پھر بجٹ پیش ہو گا اور پھر کئی کہیں گے کہ یہ کیا مشکل ہے؟ مگر اس کے بعد وہ چُپ چاپ گھروں کو چلے جائیں گے اور اس کے پورا کرنے کے لئے کوئی حقیقی جد و جہد نہ کریں گے ۔ اس کے علاوہ تحریک جدید کے متعلق بھی میں پھر توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ اس سے سلسلہ کی ترقی اور اشاعت کی ایک عظیم الشان بنیا د رکھی جا رہی ہے اور جو اس میں حصہ لیں گے وہ ہمیشہ کے لئے عظیم الشان ثواب کے مستحق ہوں گے۔ اس لئے اس کے وعدوں کو بھی پورا کریں لیکن یہ یاد رکھیں کہ جب تک عورتوں اور بچوں کو ساتھ نہ ملایا جائے گا قر بانی مشکل ہے۔ اس لئے ضرورت ہے کہ ان کو بھی واقف کیا جائے تا وہ تمہارا ہاتھ بٹاسکیں اور ہر فرد کو یہ کوشش کرنی چاہئے کہ جلد از جلد وعدہ پورا ہو ۔ ایسا نہ ہو کہ کل پر ڈال دیا جائے اور اس طرح یہ بھی بھی پورا نہ ہو سکے۔ نیت اور ارادہ کی ضرورت ہے۔ اگر یہ ہو تو پھر شوری بھی بابرکت ہو سکتی ہے اور تحریک جدید بھی مفید نتائج کا باعث بن سکتی ہے۔ مومن کی نیت خدا تعالیٰ کے فضلوں کو جذب کرنے کا موجب ہوتی ہے۔ پس دل میں پختہ ارادہ کر لو کہ اللہ تعالٰی مومن کے ارادوں کے پورا ہونے کے سامان خود بخود کر دیتا ہے ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں ایک دفعہ ایک مقدمہ پیش ہوا۔ ایک عورت سے دوسری کا دانت ٹوٹ گیا تھا جس سے دانٹ ٹو ٹا وہ ایک مخلص اور قربانی کرنے والی عورت تھی ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی سفارش کی اور شخص سے جو اپنی پھوپھی کی طرف سے پیروی کر رہا تھا فرمایا کہ اسے معاف کر دو ۔ مگر اس نے کہا کہ یا رسول اللہ ! ہماری پھوپھی کا دانت توڑا گیا ہے ہم صبر نہیں کر سکتے جب کا تک توڑنے والی کا دانت نہ توڑا جائے ۔ ہاں اگر آپ حکم دیں تو علیحدہ بات ہے ہم مان لیں گے مگر ئے ۔ ہے آپ نے فرمایا کہ نہیں میں حکم نہیں دیتا ۔ یہ بات سُن کر دوسری عورت کا بھتیجا جو اُس کی طرف سے دوسرے ۔