خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 185 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 185

خطبات محمود ۱۸۵ سال ۱۹۳۹ ء خاص بوجھ کے ہیں ۔ اس لئے دوستوں کو خاص طور پر قربانی کرنی چاہئے اور اس کے لئے یہ بہت ضروری ہے کہ عورتوں اور بچوں میں جلسے کئے جائیں اور اُن کو سلسلہ کی ضروریات اور مشکلات بتا کر اپنا ہم خیال بنایا جائے کیونکہ جب تک وہ ہم خیال نہ ہوں گے دوست اپنے وعدے پورے اور اپنے فرض ادا نہیں کر سکیں گے ۔ مجھے سخت تعجب ہے کہ گو تحر یک جدید کا یہ دور نہایت اہم تھا اور ایک ایسا دور تھا جس میں نئی زندگی کی بنیاد رکھی جا رہی تھی اور اس مضمون کو میں نے اچھی طرح واضح کر دیا تھا مگر میرے تعجب کی کوئی حد نہ رہی جب میں نے دیکھا کہ وعدوں پر چار ماہ گزرنے کے باوجود اب تک صرف سولہ ہزار روپیہ وصول ہوا ہے جس کے معنے یہ ہیں کہ صرف چار ہزار روپیہ ماہوار آ رہا ہے حالانکہ وعدے ایک لاکھ چھبیس ہزار کے ہیں اور ابھی بیرونی ممالک کے وعدے آئے نہیں جنہیں ملا کر اُمید ہے کہ ایک لاکھ تیس ہزار کے وعدے ہو جائیں گے مگر اس وقت تک وصول صرف سولہ ہزار ہوا ہے حالانکہ سال کا تیسرا حصہ گزر چکا ہے۔ مجھے معلوم ہوا ہے کہ جماعتیں کہتی ہیں کہ اس وقت خلافت جو بلی فنڈ اور بجٹ پورا کرنے کی طرف متوجہ ہیں مگر جب میں نے بجٹ کے اعداد و شمار منگوا کر دیکھے تو معلوم ہوا کہ ۳۰ مارچ کو ختم ہونے والے ہفتہ میں ساڑھے تین ہزار کی آمد ہوئی ہے جس میں گزشتہ سال کی نسبت تین ساڑھے تین ہزار کی کمی ہے اور جو بلی فنڈ میں گزشتہ ماہ میں صرف پانچ ہزار کی آمد ہوئی ہے اور اس میں سے اگر وہ تین ہزار نکال دیئے جائیں جو چندہ میں سے کم ہیں تو گویا جو بلی فنڈ کی وصولی دو ہزار کی رہ جاتی ہے اور اسے اگر تحریک جدید کی آمد میں کمی کے مقابلہ پر رکھا جائے تو اس کے یہ معنی ہوں گے کہ جماعت نے آٹھ دس ہزار روپیہ کم دیا ہے اور کہہ یہ دیا کہ ہم وصولی کر رہے ہیں اور کام میں لگے ہوئے ہیں لیکن کام یہ کیا ہے کہ ایک مد میں کمی کر کے دوسری میں دے دیا۔ یہ تو ایسی ہی بات ہے کہ کوئی شخص ایک جیب سے نکال کر دوسری میں ڈال دے۔ میں نے آج سے چار سال پہلے بھی یہ بتایا تھا کہ عورتوں اور بچوں کی مدد کے بغیر یہ قربانی نہیں کی جاسکتی ۔ جب تک وہ کفایت شعاری اور سادہ زندگی کا وعدہ نہ کریں کبھی کامیابی نہیں ہوسکتی ۔ کیونکہ خدا تعالیٰ نے اٹھنی میں سے روپیہ نکالنے کا تو کوئی گر نہیں بنایا۔ آٹھ آ نہ میں سے آٹھ آ نہ خرچ کر کے بھی کوئی شخص اگر یہ چاہے کہ دو آ نہ کسی اور کو بھی دے دے تو وہ کبھی