خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 164 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 164

خطبات محمود ۱۶۴ سال ۱۹۳۹ ء وقت آپ پر ایمان لائے تھے اس قابل ہو چکے تھے کہ فوجوں کی کمان اپنے ہاتھ میں لیں ۔ چنانچہ گیارہ سال کا علی مدینہ پہنچتے وقت چوبیس سال کا جوان تو سال کا جوان تھا اور ۱۷ سال کا زبیر مدینہ جاتے تمیں سال کا جوان تھا۔ یہی حال باقی نو جوان صحابہؓ کا بھی تھا۔ کوئی ان میں سے تمیں سال کا تھا، کوئی چونتیس سال کا تھا اور کوئی پینتیس سال کا تھا۔ پس بجائے اس کے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نئے سرے سے ایک جماعت بنانی پڑتی جب آپ مدینہ میں پہنچے اور کام وسیع ہو گیا تو آپ کو انہی نوجوانوں میں سے بہت سے مدرن مدرس مل گئے جنہوں نے مکہ میں آپ سے سبق حاصل کیا تھا اور پھر اور دس سال تک مدینہ میں بھی انہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شاگردی میں رہنے کا موقع مل گیا اور جب آپ کی وفات کا وقت آیا تو اُس وقت چوبیس سال کا علی چونتیس سال کا جوان تھا اور ابھی ایک لمبا عرصہ کام کا اُن کے سامنے پڑا تھا۔ اسی طرح وہ زبیر جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اب پر ایمان لاتے وقت ۱۷ سال کا کا تھا وہ اُس وقت چالیس سال کا جوان تھا تو یہ نوجوانوں کی ایک ایسی جماعت تھی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں باوجو د ۲۳ سال آپ کے ساتھ کام کرنے کے جب آپ فوت ہوئے تو ابھی اُن کے سامنے ان کی زندگی کے ہیں تمہیں سال کام کرنے کے لئے پڑے تھے اور پھر ہر ایک نے آپ کی وفات کے بعد اپنی اپنی عمر کے مطابق کام کیا۔ چنانچہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد اڑھائی سال کام کرنے کا موقع ملا ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد ساڑھے آٹھ سال کام کرنے کا موقع ملا اور حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد میں سال کام کرنے کا موقع ملا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد چھبیس سال کام کرنے کا موقع ملا ۔ یہی حال طلحہ اور زبیر کا بھی ہوا ۔حتی کہ بعض صحابہ اس قسم کے بھی تھے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد پچاس پچاس سال تک زندہ رہے اور بعض ایسے بھی تھے گو اُن کی تعداد بہت کم ہے کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد ستر ، اسی سال زندہ رہے۔ یہ نتیجہ تھا اس بات کا کہ نو جوانوں کے دلوں میں اللہ تعالیٰ نے ہدایت ڈالی اور وہی نوجوان درست ہو کر ایک لمبی عمر تک خدمت اسلام کرتے رہے۔