خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 141 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 141

خطبات محمود ۱۴۱ سال ۱۹۳۹ ء اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ذہانت پیدا کرنے کا پہلا ذریعہ محبت ہے ۔ چنانچہ دیکھ لو ماں کس طرح ہر وقت اپنے بچہ کی فکر رکھتی ہے۔ اس کا یہ فکر ہی اس کی ذہانت کا موجب ہے۔ فرق کا صرف یہ ہے کہ اس کی ذہانت محدود ہوتی ہے اور ذہین شخص کی ذہانت وسیع ہوتی ہے۔ ورنہ بیوقوف شخص بھی بعض دفعہ ایسے معاملہ میں آ کر بڑا ذہین بن جاتا ہے جس میں اس کا ذاتی فائدہ ہا جاتا ہے جس میں اس کا ذا ہوتا ہے لیکن وہ ذہین نہیں کہلا سکتا ۔ کیونکہ اُس کی ذہانت محدود اور وقتی ہوتی ہے اسی طرح ماں تاہے وہ کہلاسکتا۔ اور وقتی ہوتی اس ط بھی اپنے بچہ کے متعلق بڑی ذہانت سے کام لیتی ہے اور اُس کی ہر ضرورت کا فکر رکھتی ہے لیکن اس کی یہ ذہانت محدود ہوتی ہے۔ بہر حال ذہانت یا محبت سے پیدا ہوتی ہے یا خوف سے پیدا ہوتی ہے۔ خوف کے وقت بھی انسانی ذہن خوب تیز ہو جاتا ہے یا پھر تجربہ سے انسانی ذہن تیز ہو جاتا ہے۔ یہی چند امور ہیں جن کا ذہانت کے پیدا کرنے میں بہت بڑا دخل ہے مگر جو محدود ذہانت ہو اُس کا کسی خاص پہلو میں تو فائدہ ہو سکتا ہے مگر باقی امور میں نہیں ۔ ایسا شخص گواپنے فائدہ یا اپنے بچے کے فائدہ کے لئے بڑی ذہانت کا ثبوت دے گا مگر قوم کے لئے وہ مفید نہیں ہوگا کیونکہ اُس کی ذہانت محدود ہے ۔ انہی محدود ذہینوں میں سے میں نے ماں کو پیش کیا ہے۔ وہ عام طور پر اپنے بچہ کے متعلق ایسی ایسی فکریں رکھتی ہے کہ دوسرے حالات میں ویسی فکریں انسان کو نہیں سوجھ سکتیں ۔ وہ بعض دفعہ اپنے بچہ کے متعلق اتنا سوچتی ہے کہ کہتی ہے میں دس سال کے بعد یہ کروں گی اور وہ کروں گی تو اس ذہانت کی محرک محبت ہے۔ اسی طرح کبھی خوف ذہانت کا محرک ہو جاتا ہے ۔ میں اس وقت جس ذہانت کی طرف توجہ دلا رہا ہوں وہ عام ذہانت ہے۔ محبت بیشک پہلی چیز ہے جو ذہانت پیدا کرتی ہے مگر یہ محبت تو ایمان پہلے ہی پیدا کر رہا ہے اور خصوصاً جب قومی کاموں میں نوجوان حصہ لیں گے اور قومی روح اپنے اندر پیدا کریں گے جس کا پیدا کرنا میں ان کے مقاصد میں سے ایک اہم مقصد قرار دے چکا ہوں تو لازماً محبت بھی پیدا ہو گی اور محبت کے نتیجہ میں جو ذہانت پیدا ہوتی ہے وہ بھی ان میں رونما ہو گی مگر دوسرا حصہ ذہانت کا سزا سے مکمل ہوتا ہے۔ اسی لئے میں نے فیصلہ کیا ہے کہ خدام الاحمدیہ کا یہ فرض ہے کہ وہ اپنے ہر ممبر سے یہ اقرار لیں کہ اگر اس نے اپنے مفوضہ فرض کی ادائیگی میں غفلت یا کوتاہی سے کام لیا تو وہ ہر سزا برداشت کرنے کے لئے تیار رہے گا اور خدام الاحمد یہ