خطبات محمود (جلد 20) — Page 128
خطبات محمود ۱۲۸ سال ۱۹۳۹ ء نظر ڈالنی چاہئے اور جو چیز اس کی چار پائی کے نیچے ہو اُس کے متعلق یہ سمجھنا چاہئے کہ اس کے کھانے سے مریض بیمار ہوا ہے۔ اب میں جو یہاں آیا تو آتے ہی میں نے ان کی چار پائی کے نیچے نظر ڈالی تو مجھے گھوڑے کی زین نظر آئی۔ پس میں سمجھ گیا کہ یہ گھوڑے کی زین کھا کر ہی بیمار ہوئے ہیں ۔ اب دیکھو جس چیز کا نام اس نے ذہانت رکھا ہوا تھا وہ ذہانت نہیں تھی بلکہ حماقت اور بیوقوفی تھی اور گو اس مثال پر تم سب ہنس پڑے ہو مگر اس قسم کی بیوقوفیاں تم بھی کرتے رہتے ہو إِلَّا مَا شَاءَ الله - جیسے میں نے بتایا ہے سو میں سے ایک ممکن ہے ذہین ہو لیکن سو میں سے ننانوے یقیناً ذہانت سے عاری ہوتے ہیں ۔ ہندوستان کی ۳۳ کروڑ آبادی ہے اور سو میں سے ایک کے ذہین ہونے کے یہ معنی ہیں کہ اس ملک میں صرف ۳۳ لاکھ آدمی ذہین ہیں ۔ اب ۳۳ لاکھ بھلا ۳۳ کروڑ کا بوجھ کس طرح اُٹھا سکتا ہے؟ گو میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک فیصدی کی نسبت بھی خاص ہوشیار جماعتوں میں پائی جاتی ہوگی ۔ عام جماعتوں میں ایک فیصدی کی نسبت بھی نہیں اور اس کا احساس مجھے اسی وقت ہوا ہے ۔ کیونکہ جب میں نے ۳۳ کروڑ کا سواں حصہ ۳۳ لاکھ نکالا تو میری سمجھ میں یہ بات آئی کہ یہ اندازہ غلط ہے کیونکہ ہندوستان میں ہرگز ۳۳ لاکھ ذہین آدمی نہیں ہیں ۔ اگر اتنے ذہین آدمی ہوتے تو اس ملک کی کایا پلٹ جاتی۔ ممکن ہے ہماری جماعت میں جسے ہر وقت علمی باتیں سُنائی جاتی ہیں ایک فیصدی کی نسبت سے ذہین آدمیوں کا وجود پایا جاتا ہولیکن اور جماعتوں میں ایک فیصدی کی نسبت بھی نہیں ۔ وہ کبھی بات کو چاروں گوشوں سے نہیں دیکھیں گے اور ہمیشہ غلط نتیجہ پر پہنچیں گے۔ ۔ ابھی پچھلے سفر میں جب میں کراچی گیا تو وہاں بغداد سے ہماری جماعت کے ایک دوست میرے پاس آئے اور اُنہوں نے کھجوروں کا ایک بکس پیش کیا اور کہا کہ یہ کھجور میں بغداد کی جماعت نے بھجوائی ہیں ۔ ہم کراچی میں ایک ہوٹل میں ٹھہرے ہوئے تھے اور اس کے دو کمرے کرایہ پر ہم نے لئے ہوئے تھے۔ ایک مردانہ تھا، ایک زنانہ ۔ میں نے وہ کھجوروں کا بکس اسی میں نے وہ کا جگہ رکھوا دیا جہاں باقی اسباب پڑا تھا اور پھر مجھے اس کا خیال بھی نہ رہا۔ جب ہم بمبئی پہنچے