خطبات محمود (جلد 20) — Page 114
خطبات محمود ۱۱۴ سال ۱۹۳۹ ء پاخانہ الگ ہو جاتا ہے اس پر پھر مکھیاں بیٹھ کر دوسری کھانے کی چیزوں پر آ کر بیٹھتی ہیں اور وہی پھر آئے اور کھانے کی چیزوں پر بیٹھتی ہیں ۔ پھر لوگ اسے کھا کر پاخانہ کرتے ہیں اور پھر اس پر مکھیاں بیٹھتی ہیں اور جس طرح بادل سمندر سے بنتے اور پھر پانی بن کر سمندر میں چلے جاتے ہیں اسی طرح اس گندگی کا بھی حال ہے ۔ بعض لوگ تو ایسے احمق ہیں کہ وہ گندہ رہنے کو نیکی سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ صفائیاں کرنا انگریزوں کا کام ہے ہم مومن اور مخلص ہیں ہمیں ان باتوں سے کیا ؟ وہ مومن مخلص اسے سمجھتے ہیں جو زیادہ گندہ ہو۔ زمانہ کتنا بدل جاتا ہے۔ میں سلطان صلاح الدین ایوبی کی زندگی کے حالات ایک تاریخ کی کتاب میں پڑھ رہا تھا گو اس زمانہ میں مسلمانوں میں تنزل کے آثار شروع ہو گئے تھے مگر پھر بھی میری آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں جب میں نے دیکھا کہ اس میں صفحوں کے صفحے اس موضوع پر لکھے ہوئے ہیں کہ ایک یورپین عیسائی اور شامی مسلمان میں کیا فرق ہے؟ اور فرق یہ بتائے گئے ہیں کہ مسلمان صاف ستھرا ہوتا ہے اس کا بدن اور اس کے کپڑے اور مکان صاف ہوتا ہے لیکن یورپین گندہ ہوتا ہے اس کے بال اور ناخن بڑھے ہوئے ہوتے ہیں ، اس کا بدن اور لباس غلیظ ہوتا ہے۔ یہ اُس زمانہ کے مسلمانوں کی حالت تھی مگر آج کیا ہے؟ آج ایشیا کا مسلمان غلیظ اور یورپین عیسائی صاف ستھرا ہوتا ہے۔ پھر وہاں یہ بھی لکھا ہے کہ عجیب بات یہ ہے کہ عیسائیوں کو سمجھاؤ تو وہ کہتے ہیں کہ نہیں تصوف یہی ہے اور بعینہ آج یہ حالت مسلمانوں کی ہے ۔ آج مسلمان ایسا ہی سمجھتے ہیں ۔ وہی چیزیں جو عیسائیوں میں تھیں آج اِن میں آگئی ہیں اور جو ان میں تھیں وہ عیسائیوں میں چلی گئی ہیں ۔ بالکل الٹ معاملہ ہو گیا ہے۔ جس طرح بچے کھیلتے ہیں اور ایک دوسرے کی پیٹھ پر سوار ہو جاتا ہے۔ جو نیچے ہوتا ہے وہ کہتا ہے میرے کو ٹھے کون چڑھی؟ یعنی میرے مکان کی چھت پر کون چڑھا ہے۔ اوپر والا جواب دیتا ہے کانٹو ۔ نیچے والا کہتا ہے اُتر کا نٹو میں چڑھاں ۔ یعنے کا نٹو اُتروار اتر واب میری باری چڑھنے کی ہے ھنے کی ہے۔ اس پر جو ھوڑا تھا وہ سوار ہو جاتا جو گھوڑا تھا وہ سوار ہو جاتا ہے۔ میں دیکھتا ہوں یوروپین عیسائیوں اور ایشیائی مسلمانوں میں بالکل ایسا ہی کھیل کھیلا گیا ہے۔ ایک وقت تھا کہ جب کہا جاتا تھا کون غلیظ ہے؟ تو جواب ملتا تھا عیسائی اور جب کہا جاتا تھا کون صاف ہے؟ تو جواب ملتا تھا مسلمان ۔ مگر آج جب کہا جاتا ہے کون صاف ہے؟ تو جواب ملتا ہے عیسائی ۔