خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 108 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 108

خطبات محمود ۷۰۱ سال ۱۹۳۹ ء بُرا ہے۔ ہمارے ملک کی ذہنیت ایسی بُری ہے کہ عام طور پر لوگ لو ہار ، ترکھان وغیرہ کو کمیں سمجھتے ہیں اور جس طرح یہ لوہار ، ترکھان اور چوہڑوں کو ذلیل سمجھتے ہیں اسی طرح دوسرے لوگ ان کو ذلیل سمجھتے ہیں ۔ اگر کسی شخص کا لڑکا پولیس یا فوج میں سپاہی ہو جائے اور سترہ روپیہ ماہوار ہیں۔ کس کار کا یا میں ہو رو تنخواہ پانے لگے تو اس پر بہت خوشی کی جاتی ہے لیکن اگر وہ پچاس ساٹھ روپیہ ماہوار کمانے والا ترکھان یا لوہار بن جائے تو تمام قوم روئے گی کہ اس نے ہماری ناک کاٹ ڈالی کیونکہ اِسے کمیوں کا کام سمجھا جاتا ہے۔ تو میرا مطلب یہ ہے کہ اس قسم کے کاموں کی جماعت میں عادت ڈالی جائے ۔ ایک طرف تو کام کرنے کی عادت ہو اور دوسری طرف ایسے کاموں کو عیب نہ سمجھنے کی ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ جماعت کا کوئی طبقہ ایسا نہیں رہے گا کہ جو کسی حالت میں بھی یہ کوشش کرے کہ دنیا میں ضرور کوئی نہ کوئی حصہ غلام رہے اور اگر کبھی اس کی اصلاح کا سوال پیدا ہو تو اِس میں روک بنے ۔ جیسے جب یہاں چوہڑوں کو داخلِ اسلام کرنے کا سوال پیدا ہوا تو بعض لوگ گھبرانے لگے تھے ۔ جماعت کے کچھ لوگ بڑھتی بنیں ، کچھ لو ہار بنیں ، کچھ ملازمتیں کریں غرضیکہ کوئی خاص کام کسی سے منسوب نہ ہو ، تا وہ ذلیل نہ سمجھا جائے ۔ اس تحریک سے دوضروری فوائد حاصل ہوں گے: ایک تو نکما پن دور ہو گا اور دوسرے غلامی کو قائم رکھنے والی روح کبھی پیدا نہ ہوگی ۔ یہ فیصلہ کر لینا چاہئے کہ فلاں کام بُرا ہے اور فلاں اچھا ہے ۔ بُرا کام کوئی نہ کرے اور اچھا چھوٹے بڑے سب کریں ۔ بُرا کام مثلاً چوری ہے ، یہ کوئی بھی نہ کرے اور جو اچھے ہیں اُن میں سے کسی کو عار نہ سمجھا جائے تا اُس کے کرنے والے ذلیل نہ سمجھے جائیں اور جب دُنیا میں یہ مادہ پیدا ہو جائے کہ کام کرنا ہے اور نکما نہیں رہنا اور کسی کام کو ذلیل نہیں سمجھنا تو اس طرح کوئی طبقہ ایسا نہیں رہے گا جو دنیا میں غلامی چاہتا ہو ۔ اسی لئے میں نے کوشش کی تھی کہ ملازموں کی تنخواہیں بڑھ جائیں تا لوگ ملازم کم رکھیں اور اپنے کام خود کریں ۔ اب تو یہ حالت ہے کہ نوکر دو چار روپے میں مل جاتے ہیں اس لئے ذرا کسی کے پاس پیسے ہوتے ہیں تو جھٹ وہ نوکر رکھ لیتا ہے اور اس طرح اِس میں سُستی اور غفلت پیدا ا ہو ہو جا جاتی ہے۔ ہمارے ملک میں یہ سُستی اور غفلت اس حد تک ترقی کر گئی ہے کہ معمولی لوگ بھی اپنا اسباب اُٹھانا ہتک سمجھتے ہیں حالانکہ ولایت میں بڑے بڑے لکھ پتی خود اپنے اسباب