خطبات محمود (جلد 20) — Page 100
خطبات محمود ۱۰۰ سال ۱۹۳۹ ء تمہارے نظام میں شریک ہوتا ہے اور پھر کسی عہد کی خلاف ورزی کرتا ہے تو تمہارا اختیار ہے کہ تم اُسے سزا دو ۔ پس اگر کوئی جھوٹ بولے تو تم خود اُسے سزا دو اور جس طرح مرغی اپنے بچوں کی حفاظت کرتی ہے اُسی طرح تم سچائی کی حفاظت کرو ۔ مرغی کس قدر کمز ور جانور ہے لیکن جب اُس کے بچوں پر کوئی بلی یا گتا حملہ کر دے تو وہ بلی اور کتا کا بھی مقابلہ کر لیتی ہے۔ پس جس طرح وہ اپنے بچوں کی حفاظت کرتی ہے اُسی طرح تم سچ کی حفاظت کرو اور کوشش کرو کہ تمہارا ہر ممبر سچا ہو اور سچائی میں تمہارا نام اس قدر روشن ہو جائے کہ خدام الاحمدیہ کا ممبر ہونا ہی اس بات کی ضمانت ہو کہ کہنے والے نے جو کچھ کہا ہے وہ صحیح ہے اور جب بھی لوگ ایسے شخص کے منہ سے کوئی روایت سنیں وہ کہیں کہ یہ روایت غلط نہیں ہو سکتی ۔ کیونکہ اس کا بیان کرنے والا خدام الاحمدیہ کا ممبر ہے۔ جب تم اس مقام کو حاصل کر لو گے تو تمہاری تبلیغ کا اثر اتنا وسیع ہو جائے گا کہ اس کی کوئی حد ہی نہیں اور تم ہزاروں عیوب قوم میں سے دُور کرنے کے قابل ہو جاؤ گے۔ پس دیانت اور سچائی کو خاص طور پر اخلاق فاضلہ میں سے چن لو اور بھی بہت سے ضروری اخلاق ہیں مگر ان دو اخلاق کو میں نے خصوصیت کے ساتھ چنا ہے۔ اِن کو ہمیشہ اپنے مد نظر رکھو اور ان کے علاوہ بھی جس قدر نیک اخلاق ہیں وہ اپنے اندر پیدا کرو۔ مثلاً اعلیٰ اخلاق میں سے ایک ظلم نہ کرنا ہے مگر چونکہ خدام الاحمدیہ کے اساسی اصول میں خدمت خلق بھی شامل ہے اس لئے میں نے علیحدہ اس کو بیان نہیں کیا کیونکہ وہ شخص جس کا فرض یہ ہو کہ وہ دوسروں کی خدمت کرے وہ کسی پر ظلم نہیں کر سکتا ۔ پس میں نے اس کو اِسی لئے چھوڑ دیا ہے کہ یہ بات تمہارے نام اور تمہارے اساسی اصول کے اندر شامل ہے لیکن بہر حال اور جس قدر اچھے اخلاق ہیں وہ سب اپنے اندر پیدا کرو۔ انسان اگر تلاش کرے تو اُسے بیسیوں اخلاق معلوم ہو سکتے ہیں لیکن جیسا کہ میں نے بتا ، بتایا ہے یہ دوا ہم اخلاق ہیں جن کا اپنے اندر پیدا کرنا نہایت ضروری ہے ۔ ایک دیانت اور دوسرا سچ ۔ ان کے علاوہ ایک اور بھی اہم خلق ہے مگر اس کا ذکر انشاء اللہ پھر کروں گا۔ بہر حال اخلاق فاضلہ میں سے سچ اور دیانت کو اپنے اندر پیدا کرنے کی خاص طور پر کوشش کرو اگر تم ان دو اخلاق کو جماعت کے اندر پیدا کرنے میں کامیاب ہو جاؤ تو تم جماعت کی اتنی بڑی خدمت