خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 98 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 98

۹۸ سے دیا گیا، اس کے مقابلہ میں وہ قربانیاں بہت ادنی درجے کی تھیں۔ غور تو کرو۔ صحابہ نے کیا قربانی کی۔ انہوں نے اپنا وطن چھوڑا مگر خدا نے اس کے بدلے میں انہیں کیا دیا۔ بیشک صحابہ نے وطن چھوڑا تھا مگر غلامی موڑا تھا مگر غلامی کی حالت میں چھوڑا تھا۔ پھر انہیں حاصل ہو گیا اور حکمران کی حالت میں حاصل ہوا۔ حضرت ابو حضرت ابو بکر و عمر و عثمان و علی نے غلامی کی حالت میں وطن چھوڑا تھا۔ مگر دوبارہ وہ مکہ میں بادشاہ ہونے کی حیثیت میں داخل ہوئے کیا ان کی قربانی ضائع گئی؟ پھر انہوں نے جائدادیں اور مال چھوڑے لیکن خدا نے اس کے بدلے میں ان کو کس قدر مال دیئے۔ دس میں سو دو سو ہزار دو ہزار نہیں۔ حضرت عبدالرحمن بن عوف ها، جب فوت ہوئے تو تین کروڑ روپیہ ان کے گھر سے نکلا۔ اللہ جو آج کل بھی جب کہ دولت کی کثرت ہے کسی کے پاس ہو تو اسے بڑا دولت مند سمجھا جاتا ہے۔ لیکن اُس وقت جب کہ اشیاء کی قیمت سستی اور روپے کی قیمت گراں تھی ، صحابہ کے اموال کی یہ حالت تھی۔ حضرت ابو ہریرہ کا واقعہ ہے کہ وہ ایک جگہ کے گورنر تھے ان کے پاس کسری کا درباری رومال تھا کھانسی جو آئی تو اس رومال میں تھوکا اور کہا۔ واہ واہ ابو ہریرہ کسری کے رومال میں تھوکتا ہے۔ لوگوں نے پوچھا یہ کیا بات ہے۔ حضرت ابو ہریرہ نے کہا۔ میں رسول کریم میں ایم کی باتیں سننے کے لئے مسجد نبوی میں پڑا رہتا تھا اور میں کسی وقت بھی مسجد سے دور جانا اس لئے پسند نہ کرتا تھا کہ شاید کسی وقت رسول کریم میں ایم آئیں اور میں نہ ہوں اور کوئی بات سننے سے رہ جائے۔ اس حال میں بعض اوقات یہ حالت ہو جاتی کہ بھوک کے مارے میرے منہ سے بات نہیں نکل سکتی تھی۔ اور بھوک میں ہی سات سات وقت گذر جاتے۔ چونکہ صحابہ سوال نہیں کرتے تھے اس لئے حضرت ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ میں بھوک سے بیتاب ہو گیا اور اتنے میں حضرت عمرؓ گذرے میں نے ان سے آیت صدقہ کے معنے پوچھے۔ انہوں نے بتائے اور چلے گئے۔ حضرت ابو ہریرہ کہتے ہیں۔ کیا میں اس آیت کے معنے نہیں جانتا تھا۔ میرا تو یہ مطلب تھا کہ وہ میری حالت دیکھیں اور کھانے کے لئے دیں۔ پھر حضرت ابو بکر آئے۔ میں نے ان سے بھی اس آیت کے معنے پوچھے۔ وہ بڑے صدقہ کرنے والے تھے مگر انہوں نے بھی معنے بتائے اور چلے گئے لیکن کیا میں اس آیت کے معنے نہیں جانتا تھا۔ اتنے میں حضرت نبی کریم لم باہر تشریف لائے اور آپ نے میرا چہرہ دیکھ کر فرمایا۔ ابو ہریرہ تم بھوکے ہو۔ آپ کے پاس دودھ کا پیالہ تھا۔ آپ نے فرمایا۔ دوسرے غرباء کو بھی جمع کر لو اور ہم سب سات الله