خطبات محمود (جلد 1) — Page 476
: ۴۷۶ کسٹرا ئل ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ رسول کریم میں ہم نے جو کچھ فرمایا تھا وہ درست تھا اگر وہ کافی شہد پلا دیتا تو اس کا بھائی ضرور تندرست ہو جاتا ہے لیکن اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک مقام یہ بھی ہے کہ انسان کہے کہ مریض کا پیٹ جھوٹا ہے۔ آپ تو سمجھتے تھے کہ شہد پلانے سے مریض کو یقینا صحت ہو جائے گی لیکن اس شخص کو یہ مقام حاصل نہیں تھا۔ اس کا مقام یہ تھا کہ وہ کہتا میرے بھائی کا پیٹ جھوٹا ہے ورنہ جو علاج رسول کریم میں ہم نے تجویز فرمایا تھا وہی درست ہے۔ اس طرح جب خدا تعالیٰ نے اس زمانہ میں اپنے مامور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھیجا اور فرمایا کہ عیسائیت اب شکست کھا جائے گی اور اکثر عیسائی اسلام کو قبول کر لیں گے اور دنیا میں رحم ، انصاف، عدل اور دیانتداری پیدا ہو جائے گی ، تو چاہے بظاہر حالات تمہارا دل اسے مانے یا نہ مانے تم یہی کہو کہ جو کچھ خدا تعالیٰ نے کہا ہے وہی درست ہے۔ تمہارے نزدیک یہ جھوٹ ہی سہی لیکن تم جھوٹ کی شکل میں سچ بولو کیونکہ خدا تعالیٰ کا قول بہر حال سچا ہے۔ اگر تمہارے پاس کوئی اور شخص آتا ہے اور وہ کہتا ہے کہ احمدی خراب ہوتے ہیں تو تم کہو مجھے بھی ایسا ہی نظر آتا ہے لیکن تم بھی جھوٹے ہو اور میں بھی جھوٹا ہوں۔ اگر خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ دنیا کی اصلاح انہی لوگوں کے ذریعہ ہوگی تو انہی لوگوں کے ہاتھوں سے اصلاح ہوگی۔ میں بھی تمہارے خیالات سے متفق ہوں لیکن ساتھ ہی نظر آ رہا ہے کہ میں بھی جھوٹا ہوں اور تم بھی جھوٹے ہو۔ تمہارا تو فرض تھا کہ تم خدا تعالیٰ کی خاطر عید مناتے لیکن تم نے تو ماتم کرنا شروع کر دیا ہے اس سے بڑھ کر اور بد قسمتی کیا ہو گی کہ خدا تعالیٰ تو عید دے اور تم ما تم کرو۔ پس تم خدا تعالیٰ کے کلام کے مناسب حال زبانیں بناؤ تبھی کامیابی ہوگی۔ تم اپنا مقصد اور مدعامت بھولو۔ تمہارا مقصد یہ ہے کہ تم نے اسلام کے جھنڈے کو دنیا میں گاڑنا ہے۔ یہ مت خیال کرد که یہ لوگ غریب ہیں فقیر ہیں۔ بے شک یہ لوگ ظاہر میں غریب اور فقیر نظر آتے ہیں لیکن اسلام کا جھنڈا انہوں نے ہی گاڑنا ہے کیونکہ خدا تعالیٰ نے یہی کہا ہے۔ اگر تمہارا دل نہیں مانتا تو بے شک نہ مانے ہم کہیں گے تمہارا دل جھوٹا ہے خدا تعالی سچا ہے اس نے جو بات کہی ہے وہ بہر حال بچی ہے۔ مجھے کوئی عزیز سے عزیز رشتہ دار بھی کہے کہ احمدیوں میں فلاں نقص ہے یا فلاں نقص ہے تو میں اسے جھوٹا ہی کہوں گا۔ پس تم یہ طریق اختیار کرو کہ جماعت کے دوسرے دوستوں کے متعلق یہ کہو کہ وہ بڑے با اخلاق ہیں، بڑے بلند ہمت ہیں،