خطبات محمود (جلد 1) — Page 471
۴۷۱ ا سنجیدہ انسان ہیں تو انہیں کہو میرے پاس اتنی زمین ہے کہ اگر میں آپ کے ملک میں ہوتا تو وہاں سے نکال دیا جاتا کہ میں کیپٹلسٹ ہوں لیکن میں سیکنڈ کلاس میں سفر کر رہا ہوں اور تم فرسٹ کلاس اور پھر ایئر کنڈیشنڈ کمپارٹمنٹ میں سفر کر رہے ہو تم کو یہ روپیہ کس نے دیا ہے۔ تم مزدور ہو کر اس قدر روپیہ کس طرح خرچ کر سکتے ہو جب کہ میں تمہارے نزدیک کیپٹلسٹ ہو کر سیکنڈ کلاس میں سفر کر رہا ہوں۔ پس یا تو تم یہ ثابت کرو کہ روس کے سب لوگ اتنا خرچ کرتے ہیں اور یا سیدھی بات یہ ہے کہ تم جاسوس ہوا اور پراپیگنڈا کی غرض سے یہاں آئے ہو۔ ملک صاحب کچھ دیر کے بعد آئے تو انہوں نے بتایا کہ اس نے کہا ہے کہ اب موقع نہیں پھر کسی وقت ملاقات کروں گا۔ میں نے کہا اصل میں دال میں کالا ہے اسے روپیہ دے کر یہاں پراپیگنڈا کے لئے بھیجا گیا ہے۔ ورنہ اس کے پاس جو رقم ہے وہ اس کی ذاتی نہیں اور نہ ہی وہ کپڑے اس کے اپنے ہیں جو اس نے پہن رکھے ہیں۔ برطانیہ کے وزیر اعظم مسٹر لائیڈ جارج 9 کسی کام کے لئے روس گئے وہ جب واپس آئے تو لوگوں نے ان پر مختلف قسم کے سوالات گئے۔ بعض نے کہا روس والوں نے غریب اور امیر کو کس طرح مساوی درجہ دے رکھا ہے، کسی نے یہ کہا کہ روسیوں وسیوں کی حالت اگر خراب ہے تو آپ ان کی کیا مدد کر رہے ہیں۔ ایک مجلس میں یہ ذکر ہوا کہ روس کے تمام لوگوں میں کس قدر سادگی پائی جاتی ہے تو مسٹر لائیڈ جارج نے کہا (غالبا اس وقت لینن ما بر سر اقتدار تھا کہ لینن کی دعوت کے موقع پر اتنے کھانے لو پکائے گئے تھے کہ مجھے اپنے ملک میں بھی اتنے کھانے کھانے کا موقع نہیں ملا۔ دوسرے موقع پر ان پر یہ سوال کیا گیا کہ روس ایک غریب ملک ہے آپ نے ان کی مدد کے لئے کیا کیا ہے۔ تو مسٹر لائیڈ جارج نے کہا میں جب ریل میں سوار ہوا تو میں نے ایک قلی کو دس لاکھ روبل انعام دیا لیکن اس نے حقارت سے اسے پھینک دیا اتنے بڑے امیروں کی ہم کیا مدد کر سکیں گے۔ دراصل اس دس لاکھ روبل کی قیمت اس وقت کے لحاظ سے دو چار پیسے تھی۔ اب اگر کسی یورپین پر خوش ہو کر اسے دو پیسے انعام دیا جائے تو وہ حقارت کی وجہ سے اسے رد نہ کرے گا تو کیا کرے گا؟ گویا مسٹر لائیڈ جارج نے بظاہر اس کا یہ مفہوم لیا کہ روس میں مزدوروں کی یہ حالت ہے کہ وہاں ایک مزدور دس دس لاکھ روپیہ کے انعام کو بھی ٹھکرا دیتا ہے پھر اتنے مالدار لوگوں کی میں کیا مدد کروں۔ مگر مطلب یہ تھا کہ روس پراپیگنڈا تو اپنے ملک کی اچھی حالت کا کرتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس کے سکے کی کوئی قیمت ہی نہیں رہی۔ پس یہ حالات بناوٹی ہیں۔