خطبات محمود (جلد 1) — Page 427
۴۲۷ م اور ان کے موجبات اور محرکات ہمارے اندر گرمی پیدا نہ کریں ہمارے اندر زندگی کی ایک لہر نہ دوڑ جائے تو اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ ہر عید ہمیں پہلے سے بھی زیادہ مردہ بنا کر چلی جائے گی۔ قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ عید تین وجوہات کی بناء پر منائی جاتی ہے۔ اول انسان کو اس کا محبوب یعنی خدا مول اخدا مل جائے گے جب اسے خدا مل جائے گا تو اس کی تو اس کی عید حقیقی معنوں میں عید ہوگی لیکن اگر اسے خدا نہیں ملتا تو پھر عید کیسی۔ در حقیقت اگر اسلام کے شروع زمانہ میں عید تھی تو صرف مسلمانوں کی۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ عیسائیت بھی خدا تعالیٰ کی قائل تھی، ہندو بھی خدا تعالیٰ کے قائل تھے مگر کوئی ایسا گروہ نہیں پایا جاتا جو یہ کہتا ہو کہ ہمیں خدا مل گیا ہے۔ اگر کوئی ایسی جماعت تھی جو اس بات کی دعویدار تھی کہ ہمیں خدا تعالیٰ مل گیا ہے تو وہ رسول کریم میں ہم اور آپ کے صحابہ تھے۔ پس جس شخص کو اس کا محبوب مل جائے اس کی عید بن جاتی ہے۔ غالب کہتا ہے اصل خوشی اس شخص کی ہے جس کے بازو پر اس کے محبوب نے سر رکھ دیا ہو ۔ ۔ پس اصل خوشی اس شخص کی ہے جس نے خدا تعالیٰ کو دیکھا ہو اور اس سے باتیں کی ہوں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی عادت تھی کہ آپ اپنی نوٹ بک میں مختلف نوٹ لکھ دیتے تھے اور بعد میں جب موقع ملتا انہیں مضمون کی صورت میں بدل دیتے۔ جب میں نے ہوش سنبھالا : سنبھالا میں ایسے نوٹوں کی تلاش میں رہتا جو کسی کتاب یا اخبار میں چھپے نہ ہوں اور اگر کوئی غیر مطبوعہ نوٹ مل جاتا تو اسے تشحیذ الاذعان کے میں شائع کر دیتا۔ ایک دن میں آپ کی نوٹ بک سے کوئی غیر مطبوعہ نوٹ تلا تلاش کر رہا تھا کہ میں نے ایک جگہ پر لکھا ہوا پایا کہ دنیا مجھے ڈراتی ہے، دشمن مجھے دھمکیاں دیتا ہے، وہ مجھے خائف کرنا چاہتا ہے لیکن مجھے حیرت ہے کہ وہ کس طرح یہ سمجھتا ہے کہ اپنے منصوبوں اور خوف دلانے میں وہ کامیاب ہو جائے گا آخر کسی میں ڈرنے کا مادہ ہو تو وہ ڈرتا ہے لیکن میں تو جب تکیہ پر سر رکھتا ہوں خدا تعالیٰ میرے پاس آجاتا ہے اور کہتا ہے میں تیرے ساتھ ہوں۔ اگر خدا تعالیٰ خود آکر آ مجھے کہتا ہے کہ میں تیرے ساتھ ہوں تو کیا مخالفوں سے میں ڈر جاؤں گا ۔ ھو پس جس کے ساتھ خدا تعالیٰ ہوتا ہے کسی اور شخص میں یہ طاقت ہی نہیں ہوتی کہ اسے نقصان پہنچا سکے۔ رسول کریم میں ایم کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ رسول کریم ملی کہ حضرت ابو بکر کو ساتھ لے کر غار ثور میں جا چھپے۔ دشمن کھوجیوں کو ہمراہ لئے آپ کی تلاش میں اس غار پر جا پہنچا۔ غار ثور جیسا کہ عام مسلمانوں کا خیال ہے کوئی چھوٹی سی غار نہیں بلکہ ڈیڑھ گز لمبی اور اتنی ہی چوڑی جگہ ہے۔ اس میں