خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 399 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 399

۳۹۹ یہ سنتے ہی ایک صحابی دوڑا دوڑا گیا اور کہا رسول کریم میں یہ فرماتے ہیں چپ کرو۔ مگر ان کے دلوں کو ٹھیس لگ چکی تھی اور وہ محسوس کر چکی تھیں کہ رسول کریم ملی ایم کے دل کو ٹھیں لگی ہے اس لئے اب وہ رسول کریم میں اللہ کی خاطر رو رہی تھیں باوجود منع کرنے کے وہ باز نہ آئیں۔ وہ صحابی پھر رسول کریم میں اللہ کے پاس آیا اور کہا یا رسول اللہ ! میں نے ان کو منع کیا ہے لیکن وہ باز نہیں آتیں۔ آپ نے فرمایا ۔ احثوا التَّرَابَ عَلَى وُجُوهِهِنَّ کہ ان کے منہ پر مٹی ڈالو۔ جیسے ہم پنجابی میں کہتے ہیں۔ کھہ کھان۔ مطلب یہ تھا کہ ان کو چھوڑ دے۔ مگر معلوم ہوتا ہے وہ صحابی اتنا سمجھدار نہ تھا۔ اس نے مٹی کی جھولی بھر لی اور عورتوں کے منہ پر ڈالنے کے لئے چل پڑا۔ حضرت عائشہ نے اس کو ڈانٹا کہ رسول کریم ملی کا یہ مطلب نہیں تھا کہ تم ان کے منہ پر مٹی ڈالو ، بلکہ آپ کا مطلب یہ تھا کہ ان کو چھوڑ دے وہ خود بخود خام خاموش ہو جائیں گی۔ تو اس رنگ میں رسول کریم ملی ایم دوسروں کے جذبات میں شریک ہوتے تھے۔ اگر ہم آپ کے جذبات میں شریک ہو جائیں تو آ۔ ائیں تو آپ ضرور ہماری عیدوں اور ہماری خوشیوں میں شریک ہوں گے۔ رسول کریم میں تعلیم فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن بعض لوگوں سے پوچھے گا کہ میں ننگا تھا تم نے مجھے کپڑا نہ پہنایا، میں بھوکا تھا تم نے مجھے کھانا نہ کھلایا، میں پیاسا تھا تم نے مجھے پانی نہ پلایا میں بیمار تھا تم نے میری عیادت نہ کی۔ وہ کہیں گے اے اللہ ! تو کس طرح بھوکا پیاسا ہو سکتا ہے۔ بھوکا پیاسا ہونا نگا ہونا یا بیمار ہونا یہ سب باتیں تو انسان سے تعلق رکھتی ہیں۔ تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میرے بندوں میں سے ایک ادنیٰ بندہ بھوکا تھا تم نے اسے کھانا نہ کھلایا۔ اسے بھوکا نہیں رکھا بلکہ مجھے ہی بھوکا رکھا میرے بندوں میں سے ایک ادنی بندہ پیاسا تھا تم نے اسے پانی نہ پلایا ۔ تم نے اسے پیاسا نہیں رکھا بلکہ مجھے ہی پیاسا رکھا۔ میرے بندوں میں سے ایک اونی بندہ ننگا تھا تم نے اسے کپڑا نہ پہنایا۔ تم نے اسے ننگا نہیں رکھا بلکہ مجھے ہی ننگا رکھا۔ میرے بندوں میں سے ایک ادنی بندہ بیمار تھا۔ تم نے اس کی عیادت نہ کی۔ وہ بیمار نہ تھا بلکہ میں ہی بیمار تھا تم نے میری عیادت نہ کی۔ پھر کچھ بندے ہوں گے اللہ تعالی ان سے کہے گا اے میرے بندو! جاؤ جنت میں کہ میں بھوکا تھا تم نے مجھے کھانا کھلایا، میں پیاسا تھا تم نے مجھے پانی پلایا میں ننگا تھا تم نے مجھے کپڑا پہنایا، میں بیمار تھا تم نے میری عیادت کی، وہ استغفار کریں گے اور کہیں گے کہ اے اللہ ! تیری ذات تو ان تمام باتوں سے پاک ہے ہماری کیا ہستی ہے کہ ہم تجھے کھلا ئیں پلائیں تو ہم سب کا رازق ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا