خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 394 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 394

۳۹۴ الله معمولی معمولی چیز بھی کھائیں تو اس کے متعلق بھی یہ کہتی جائیں گی کہ پتہ نہیں میرے بچے کو یہ چیز ملی ہے یا نہیں۔ سویاں بھی بھلا کوئی بڑی چیز ہیں۔ معمولی معمولی آدمی بھی عید کے دن سویاں پکا لیتے ہیں لیکن مائیں سویاں کھاتی جاتی ہیں اور کہتی جاتی ہیں پتہ نہیں میرے بچے کو سویاں ملی ہیں یا نہیں۔ پتہ نہیں آج میرے بچے نے کیا کھایا ہو گا وہ اس معمولی سی چیز میں بھی اپنے بچے کو شریک کرنا چاہتی ۔ نی ہے۔ تو ایک سچا مومن جس کے دل میں رسول کریم میں کا عشق اور آپ کی محبت ہو اس کے لئے بھی یہ ممکن نہیں کہ اسے آرام اور راحت کی گھڑیوں میں رسول کریم ی ایم یاد نہ آئیں اور اس کے دل میں یہ خواہش پیدا نہ ہو کہ آپ بھی اس کی خوشی میں اور اس کے آرام میں شریک ہوتے۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ کے احسانات ایسے نہیں کہ وہ حضرت عائشہ تک ہی ختم ہو جائیں اور نہ ہی آپ کے احسانات ایسے ہیں کہ وہ صحابہ تک ہی محدود ہوں بلکہ آپ کے احسانات ہم پر بھی ویسے ہی ہیں جیسے صحابہ ان پر تھے۔ بعض وجود ایسے ہوتے ہیں جو پہلی نسل کے باپ اور دوسری کے دادا اور تیسری کے پردادا بن جاتے ہیں لیکن بعض وجود ایسے ہوتے ہیں جو ہمیشہ باپ ہی رہتے ہیں۔ محمد رسول اللہ صلی علم کا وجود ایسا ہے جو دادا پڑدادا ابن ہی نہیں سکتا بلکہ آپ ہمیشہ ہمیش کے لئے دنیا کے باپ ہیں کہ اور وہ شخص جس کے دل میں سچا ایمان ہے وہ آپ کو اپنا باپ ہی سمجھتا ہے۔ اللہ تعالی نے اپنی حکمت کے ماتحت آپ کی ہر حالت کو نمایاں کر دیا ہے ایسا نمایاں کہ ہمیں اپنے گھر کے حالات معلوم نہ ہوں تو یہ ممکن ہے ہمیں اپنے بہن بھائیوں کے حالات کا علم نہ ہو تو یہ ممکن ہے لیکن یہ ممکن نہیں کہ کوئی شخص قرآن و ۔ حدیث پڑھتا ہو اور اس پر آپ کے حالات مخفی ہوں۔ صحابہ نے رسول کریم سلم کی ہر حرکت کا نقشہ کھینچ کر رکھ دیا ہے بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ گویا آپ کے روحانی وجود کو ظاہر و وب باہر کر دیا ہے یعنی آپ کی کوئی چیز بھی لوگوں سے مخفی نہیں۔ آپ کا کھانا آپ کا پینا آپ کا بولنا آپ کا سونا آپ کا جاگنا آپ کا چلنا آپ ، آپ کا چلنا آپ کا بیٹھنا آپ کا یتیموں اور غریبوں سے ہمدردی ہمدردی کرنا آپ کا بیوگان کی خبر گیری کرنا آپ کا فیصلے کرنا آپ کا اپنوں سے سلوک، آپ کا بیگانوں سے سلوک، آپ کا بیویوں سے سلوک، آپ کا ہمسایوں سے سلوک الغرض کوئی چیز ایسی نہیں جو پردہ میں ہو آپ کا وجود دنیا کے سامنے ظاہر و باہر ہے اور دنیا کی نظروں سے کبھی بھی اوجھل نہیں ہو سکتا۔ پس آپ کا وجود دنیا کے لئے بطور باپ کے ہے اور انسان کی نظر سے اس کا باپ کبھی اوجھل نہیں ہوتا۔ ہاں دادا پڑدادا کا وجود او جھل ہو جاتا ہے