خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 368 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 368

٣٦٨ یہ حکم سن کے بھی جو لڑائی کو جائے گا وہ کافروں سے سخت ہزیمت اٹھائے گا ایسے واضح طور پر پورے کر کے دکھا دیئے ہیں کہ اگر دنیوی طاقت کے ذریعہ سے اسلام نے بڑھنا ہوتا تو آج اسلام کی موت کا دن ہوتا جس کے بعد اس کی زندگی کی کوئی صورت نہیں تھی۔ پس پس وہ لوگ جو اسلام کی ترقی جہاد سے وابستہ سمجھتے ہیں، وہ لوگ جو اسلام کی ترقی تلوار سے وابستہ قرار دیتے ہیں وہ دیکھ لیں اور اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں کہ تلوار سے بڑھنے والے اسلام کی شان و شوکت ایک مُردہ جسم کی صورت میں پڑی ہوئی ہے۔ جس کے دوبارہ زندہ ہونے کی کوئی صورت نہیں مگر وہ جس کے دل میں یہ یقین اور ایمان ہے کہ اسلام تلوار سے نہیں بلکہ ہمارے طاقتور خدا کے ہاتھ سے بڑھے گا وہ دیکھ لے کہ اسلام زندہ ہے زندہ رہے گا اور اس کے مقابل کی تمام شیطانی طاقتیں مٹا دی جائیں گی۔ آج وہ حالات رونما ہیں کہ ان کی بناء پر ہم کہہ سکتے ہیں مسلمانوں کی وہی حالت ہے جو رسول کریم مسلم کی وفات پر مسلمانوں کے ایک طبقہ کی ہوئی اور ہماری حالت وہی ہے جو حضرت ابوبکر کی محمد مسلم کی لاش مبارک کو دیکھ کر ہوئی ۔ جب رسول کریم میں اسلام کی وفات ہو گئی تو اس وقت غلطی سے مسلمانوں کے ایک جتھہ نے یہ سمجھا کہ اگر ہم رسول کریم ملی ایم کی موت کو تسلیم کر لیں تو اس کے معنی یہ ہونگے کہ اسلام کی موت ہو گئی۔ پس وہ رسول کریم مسلم کی وفات سے منکر ہو گئے۔ بالکل اسی طرح جس طرح جہاد کے منسوخ یا ملتوی ہونے کے منکر آج کل کے مسلمان ہیں۔ وہ رسول کریم میں ایم کی وفات کو تسلیم ہی نہیں کرتے تھے بلکہ کہتے تھے کہ آپ زندہ ہیں اور جو شخص یہ کہے گا کہ آپ وفات پاگئے ہیں اس کی گردن تلوار سے اُڑا دیں گے۔ آخر حضرت ابو بکر کو اس واقعہ کی خبر پہنچی۔ آپ آئے اور سب سے پہلے حضرت عائشہ ان کے گھر گئے اور کہا عائشہ ! تمہارے صاحب کا کیا حال ہے؟ حضرت عائشہ اس نے کہا آپ وفات پا گئے ہیں۔ حضرت ابو بکر آگے بڑھے اور رسول کریم ملی کے بے جان جسم کو چار پائی پر پڑا ہوا دیکھ کر آپ کی پیشانی کو بوسہ دیا۔ اُس وقت اسلام کی دنیوی شان و شوکت بظاہر بالکل مردہ نظر آتی تھی جس طرح آج اسلام دنیوی لحاظ سے مردہ نظر آتا ہے۔ پھر حضرت ابو بکر نے سر اٹھایا اور خاموشی سے باہر مسجد میں آگئے۔ اُس وقت حضرت عمرہ تلوار لئے کھڑے تھے تاکہ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ محمد سلیم فوت ہو گئے ہیں تو اس وقت اس کا سر تلوار سے اُڑا دیں۔ کچھ اور