خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 363 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 363

۳۶۳ سے اسلام غرض اللہ تعالیٰ نے جہاں تک دنیوی مفاد کا سوال ہے اور جہاں تک موجودہ جنگ کے خاتمہ کا تعلق ہے ہماری ہمدردیاں اتحادیوں سے وابستہ کر دی ہیں۔ لیکن اس کا ایک اور پہلو بھی ہے جو اپنے ساتھ اگر کچھ اندیشے رکھتا ہے تو ساتھ ہی بہت بڑی بشار تیں بھی رکھتا ہے اور وہ پہلو یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک عظیم الشان پیشگوئی آج ایسی شان اور عظمت کے ساتھ پوری ہوئی ہے کہ میں نہیں سمجھ سکتا کہ دنیا کا کوئی اندھے سے اندھا دشمن بھی اس پیشگوئی کی صداقت اور عظمت سے انکار کر سکے ۔ آج سے چالیس یا پچاس سال پہلے جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے دعوٹی کو پیش کر کے دنیا میں اس کی اشاعت فرمائی اور لوگوں میں آپ کی شہرت ہوئی تو اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر سب سے بڑا اعتراض دشمن کا یہ تھا کہ آپ جہاد کو منسوخ قرار دیتے ہیں۔ اور وہ ایک ہی حربہ جس اسلام کو شان و شوکت نصیب ہو سکتی ہے اس کو آپ نے ' ہے اس کو آپ نے توڑ کر رکھ دیا ہے۔ ہر م ہے۔ ہر مسلمان جو اپنے دل میں اسلام کا درد رکھتا تھا بوجہ اس کے کہ مولویوں نے اس کی عقل مار دی تھی بوجہ اس کے کہ وہ نور نبوت سے محروم ہو چکا تھا بوجہ اس کے کہ اسے کبھی قرآن پر غور کرنے کا موقع نہیں ملا تھا اور بوجہ اس کے کہ اگر وہ قرآن پر غور بھی کرتا تھا تو قرآن کو سمجھنے کی طاقت اس میں نہیں تھی، یہ خیال کرتا تھا کہ مرزا صاحب نے جو ہتھیار چلایا ہے وہ اسلام کی تائید میں نہیں چلایا بلکہ اسلام پر ایک ایسا تبر رکھ دیا ہے جس کے بعد وہ کبھی زندہ نہیں رہ سکتا۔ حضرت صاحبزادہ عبد اللطیف صاحب شہید کی شہادت کی بڑی وجہ بھی یہی تھی کہ وہ جہاد کے مخالف تھے اور مسلمانوں کی نگاہ میں یہ تعلیم اسلامی طاقتوں کو کمزور کرنے کا موجب تھی۔ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ بات لکھی لاہ اس وقت اسے مخالفین نے درست قرار نہ دیا اور یہی کہتے رہے کہ محض احمدیت کی وجہ سے انہیں مارا گیا مگر جیسا کہ اللہ تعالیٰ کی سنت ہے وہ اپنے مأمورین کی ہر بات کی صفائی کے سامان پیدا کر دیا کرتا ہے اسی طرح اس نے آپ کی اس بات کی سچائی کے بھی سامان پیدا فرما دیئے۔ چنانچہ گو وہ وقت گزر گیا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام فوت ہو گئے پھر حضرت خلیفہ اول کا زمانہ آیا اور آپ بھی فوت ہو گئے مگر جب میرا زمانہ آیا تو مجھے کسی دوست کے ذریعہ ایک انگریز انجنیئر مسٹر مارٹن کی لکھی ہوئی کتاب کلاہ ملی جو اس وقت افغانستان گورنمنٹ کا چیف انجنیئر تھا جب کہ صاحبزادہ عبد اللطیف صاحب شہید کئے گئے ہیں۔ اس نے اپنی اس کتاب میں ایک خاص باب صاحبزادہ عبد اللطیف صاحب کی شہادت کے متعلق