خطبات محمود (جلد 1) — Page 323
۳۲۳ 6 کے سلوک سے مختلف ہوتا ہے۔ موسوی صفت انبیاء کو فوراً حکومت مل جاتی ہے کیونکہ اللہ تعالی یہ چاہتا ہے کہ ان کی زندگی میں ہی شریعت کا عملی رنگ میں نفاذ ہو جائے ، مگر مسیحی صفت انبیاء شریعت نہیں لاتے صرف سابق شریعت کی تبلیغ کرتے ہیں وہ اس لئے ان کے وقت میں حکومت ضروری نہیں ہوتی۔ پس ان کی جماعت کو حکم ہوتا ہے رافت سے محبت سے پیار سے ملاطفت سے تبلیغ کرتے جاؤ اور دشمنوں کی مخالفتوں پر صبر کرو۔ ماہ اور اللہ تعالٰی ان کی ترقی کے زمانہ میں نسبتا تاخیر ڈال دیتا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام چونکہ مسیحی صفت نبی تھے لاء اس لئے ان کے زمانہ ترقی کے آنے میں اس سے تو ضرور زیادہ تاخیر ہونی چاہئے جس قدر کہ رسول کریم میں تعلیم کی ترقی میں ہوئی مگر پھر بھی یہ کوئی ضروری نہیں کہ یہ تاخیر اس قدر ہی لمبی ہو جتنی مسیح ناصری کے زمانہ میں ہوئی۔ موسیٰ اور نبی کریم میم کی آپس میں مماثلت ہے اللہ مگر حضرت موسیٰ علیہ السلام اور رسول کریم میں یہ کا زمانہ ترقی ایک جیسا نہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم کو موعود سر زمین پر جو غلبہ حاصل ہوا وہ قریباً ۹۰-۸۰ سال کے بعد حاصل ہو ا سلا مگر رسول کریم میں تعلیم کے زمانہ میں صحابہ کو یہی غلبہ میں سال کے عرصہ میں حاصل ہو گیا تھا۔ گویا یہ عرصہ قریباً ۲۵ فیصدی رہ گیا اور پچھتر فیصدی کمی آ گئی۔ چنانچہ چالیس پچاس سال تو حضرت موسیٰ علیہ السلام زندہ رہے اور اپنے دین کی اشاعت کرتے رہے پھر چالیس سال تک خدا تعالیٰ نے ان کی قوم کو جنگلوں میں پھرایا اور اس کے بعد انہیں موعود سر زمین پر غلبہ حاصل ہوا۔ گویا قریباً ۸۰ یا ۹۰ سال کے بعد انہیں غلبہ ملا۔ اس کے مقابلہ میں رسول کریم میں ایم کی تیرہ سالہ مکی زندگی ہے اور مدینہ میں جانے کے قریباً سات سال کے بعد آپ کو غلبہ حاصل ہو گیا گویا حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم کے وقت سے چوتھائی حصہ میں آپ کو غلبہ مل گیا لیکن حضرت مسیح ناصری کی قوم کی ترقی تین سو سال میں ہوئی تھی۔ اب اگر ہم بھی صحابہ کے طریق کو اختیار کریں اور صحابہ کی طرح ہی اطاعت و فرمانبرداری میں کوشاں رہیں اور ہم کوشش کریں کہ ہم ان کے نقش قدم پر چلنے والے ثابت ہوں تو ہمارے لئے بھی خدا تعالیٰ کا وہی نشان ظاہر ہونا چاہئے جو رسول کریم ملی الم کے صحابہ کیلئے ظاہر ہوا اور ہمیں بھی مسیح ناصری کی قوم کی ترقی کے زمانہ کے چوتھائی حصہ میں غلبہ حاصل ہونا چاہئے جو پچھتر سال بنتے ہیں۔ ان پچھتر سالوں میں سے پچاس سال گزر چکے ہیں کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ۱۸۹۰ء سے کچھ عرصہ پہلے بیعت کا اعلان کیا تھا اللہ اور