خطبات محمود (جلد 1) — Page 321
۳۲۱ (۳۰) ( فرموده ۲۔ نومبر ۱۹۴۰ء بمقام عید گاہ ۔ قادیان) رمضان گزر گیا اور وہ دن آگیا جسے عید کہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے رمضان ہمیشہ ختم ہو جاتے ہیں اور خدا اپنے بندوں کے لئے عید میں بھیج دیتا ہے لمبے سے لمبا عرصہ امتحان کا جو خدا نے اپنے بندوں کے لئے رکھا ہے رمضان کا مہینہ ہے۔ تمہیں دن خدا کے بندے روزے رکھتے ہیں ، بھوکے رہتے ہیں ، پیاسے رہتے ہیں ، شہوانی تقاضوں سے بچتے ہیں، راتوں کو جاگتے ہیں، دعائیں کرتے ہیں، تلاوت قرآن کریم زیادہ کرتے ہیں، ذکر الہی کرتے ہیں اور بعض تروایح بھی پڑھتے ہیں۔ غرض یہ تیس دن کا مہینہ دینی لحاظ سے عجیب لطف اور مزے کا مہینہ ہوتا ہے لیکن جسمانی لحاظ سے ایک امتحان ہوتا ہے کیونکہ خدا کے بندے بھوکے اور پیاسے رہتے اور شہوانی تقاضوں سے اپنے آپ کو مجتنب رکھتے ہیں لیکن یہ ابتلاء ایک مہینہ کے بعد ختم ہو جاتا ہے اور خدا اپنے بندوں کے لئے عید کا دن لے آتا ہے۔ اس طرح مومنوں کو یہ بتایا گیا ہے کہ جب خدا تعالیٰ کی طرف سے مشکلات پیدا ہوتی ہیں تو وہ ہمیشہ عارضی ہوتی ہیں اور ان کے بعد جلد ہی خوشی اور راحت کا دن آجاتا ہے ، لیکن بندہ جب خود اپنے لئے کوئی مصیبت پیدا کرتا ہے تو بعض دفعہ وہ اتنی لمبی ہو جاتی ہے کہ نسلاً بعد نسل وہ مصیبت چلتی جاتی ہے اور بعض دفعہ تو صدیوں تک وہ مصیبت سروں پر مسلط رہتی ہے اور عید آنے میں ہی نہیں آتی بلکہ روز بروز دور ہوتی چلی جاتی ہے ۔ کے پس بندے کو ہمیشہ یہ امر یاد رکھنا چاہئے کہ جو ابتلاء لمبا ہو جائے اس میں ضرور کسی بندے کی کو تاہی کا دخل ہوتا ہے ورنہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کبھی لمبے ابتلاء نہیں آتے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو ابتلاء بھی آتا ہے وہ عارضی ہوتا ہے اور تھوڑے ہی عرصہ کے بعد ایسے سامان پیدا ہونے شروع ہو جاتے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ میرے بندے پر جتنی جلدی ہو سکے عید کا دن آجائے مثلاً رسول کریم ملی کے زمانہ میں صحابہ نے پوری کوشش کی کہ وہ اسلام کو پھیلائیں اور رسول کریم میں یہ کے احکام کی پوری