خطبات محمود (جلد 1) — Page 22
۲۲ پر ملال اور رنج کا نشان بھی نہیں دیکھا بلکہ جب کبھی دیکھا تبسم فرماتے ہی دیکھا ہے وہ ۔ واقعی آپ کو کیوں رنج ہوتا؟ جب کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے - أَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ وَوَضَعْنَا عَنْكَ وِزْرَكَ الَّذِي أَنْقَضَ ظَهْرَكَ وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ - فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا - کہ تمہارا بوجھ تو وہ تھا کہ کمر چور کر دیتا مگر جب تم نے ہماری فرمانبرداری کی تو ہم نے اس کو تم پر سے اس طرح اٹھایا کہ تمہیں ظاہری خوشی اور خوری ہی حاصل نہ ہوئی بلکہ ہم نے تمہارے دل کو بھی خوشی کے لئے کھول دیا۔ میں نے بتایا ہے کہ عید ظاہری خوشی کا سامان ہے جن کے دل مغموم ہوں انہیں خوشی نہیں ہو سکتی۔ لیکن آنحضرت میں تعلیم کی نسبت خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے تو تیرا سینہ کھول دیا ہے اور دل میں بھی خوشی بھر دی ہے۔ بعض غم ایسے ہوتے ہیں جن کا ظاہر پر تو اثر نہیں ہوتا لیکن دل پر ضرور ہو جاتا ہے۔ فرمایا ۔ یہاں تو ایسی خوشی ہے اور اللہ کے وعدوں پر ایسا یقین اور بھروسہ ہے کہ کوئی بھی غم نزدیک نہیں آسکتا۔ اور ذرا بھی فکر خوشی کو مکدر نہیں کر سکتا۔ چنانچہ لکھا ہے کہ ایک دفعہ آن انحضرت مسلم ایک درخت درخت ۔ کے نیچے سو گئے۔ ایک کافر آیا اور اس نے آکر آپ کی تلوار اٹھا کر سونت لی اور زور سے کہا۔ او محمد ! (صلی اللہ علیہ وسلم) اب تمہیں میرے ہاتھ سے کون بچا سکتا ہے؟ آپ" بجائے اس کے کہ کسی قسم کی گھبراہٹ سے جواب دیتے بڑے اطمینان اور دلجمعی سے فرماتے ہیں۔ اللہ ۔ چونکہ آپ نے بغیر کسی گھبراہٹ کے بڑے جلال سے جواب دیا تھا اس لئے اس آدمی کے ہاتھ سے ڈر کے مارے تلوار گر گئی۔ آپ نے اٹھالی اور فرمایا ۔ اب تو بتلا کہ تجھے میرے ہاتھ سے کون بچائے گا؟ اس نے کہا آپ ہی بچائیے اور کون ہے جو مجھے بچا سکے للہ ۔ (عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ اگر کسی سوئے ہوئے کو اچانک جگا دیا جائے تو وہ چونک پڑتا ہے۔ لیکن آنحضرت میں تعلیم کو ایک شخص ڈانٹ کر اور تلوار کھینچ کر کہتا ہے کہ بتاؤ تمہیں کون بچائے گا۔ تو آپ فرماتے ہیں۔ اللہ بچائے گا۔ ہندوستان کے لوگ تو عموماً اس نظارہ کو اپنی آنکھوں کے سامنے لا ہی نہیں سکتے۔ کیونکہ ان میں سے اکثروں کو تلوار کے دیکھنے کا بھی موقع نہیں ملا۔ اگر کسی کے گھر میں چور آن گھے تو اس کا کہاں تک مقابلہ کیا جاتا ہے۔ بعض تو یہاں تک بزدلی دکھاتے ہیں کہ چور ڈاکوؤں کو خود کنجیاں دے کر کہہ دیتے ہیں کہ فلاں جگہ مال ہے خود نکال لو ۔ تو آنحضرت میں اللہ کے اس واقعہ کا اپنی آنکھوں کے سامنے نقشہ کھینچنا آسان نہیں، مگر تم اپنے دلوں میں اس بات کا اندازہ لگاؤ کہ ایک کافر جو آنحضرت میم کو قتل