خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 179 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 179

۱۷۹ مسیح موعود علیہ السلام کی ضرورت تھی اور باوجود اس کے کہ ہم یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ اگرچہ ہم میں سے بہت ہیں جو رمضان کے روزے رکھتے ہیں مگر نفلی روزے نہیں رکھ سکتے ہماری بھی ضرورت تھی اور ہمارے بغیر دنیا نہیں چل سکتی تھی۔ جب ہم کہتے ہیں کہ احمدیت کی دنیا کو ضرورت ہے تو اس کے یہی معنی ہیں کہ ہمارے بغیر دنیا نہیں چل سکتی۔ کوئی کہے ہم نے کب یہ کہا ہے مگر جب ہم لوگوں سے کہتے ہیں کہ احمدی ہو جاؤ۔ تو اس کا یہی مطلب ہوتا ہے کہ احمدیوں کے بغیر دنیا قائم نہیں رہ سکتی۔ پس ہم لوگ جن کا دعوی ہے کہ ہم دنیا کے ستون ہیں اگر ہم نہ : انہ ہوتے تو دنیا تباہ ہو جاتی جب ہم ظاہری نماز ظاہری روزہ ظاہری حج ظاہری زکوة میں دوسروں کے برابر نہیں بلکہ کم ہیں تو معلوم ہوا کوئی اور چیز ہمارے پاس ہے جو دوسروں کے پاس نہیں اور وہ ان چیزوں کی حقیقت ہے۔ دنیا میں نماز تھی مگر نماز کی روح نہ تھی، دنیا میں روزہ تھا مگر روزہ کی روح نہ تھی، دنیا میں زکوۃ تھی مگر ز کوۃ کی روح نہ تھی، دنیا میں حج تھا مگر حج کی روح نہ تھی، دنیا میں ایمان تھا مگر ایمان کی روح نہ تھی، دنیا میں اسلام تھا مگر اسلام کی روح نہ تھی، دنیا میں قرآن تھا مگر قرآن کی روح نہ تھی اور اگر حقیقت پر غور کرو تو کہا جا سکتا ہے کہ دنیا میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی موجود تھے کیونکہ آپ کا کلمہ پڑھنے والے لوگ موجود تھے مگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی روح نہ تھی۔ ہم جس چیز کے دعویدار ہیں وہ یہ ہے کہ ہمارے ذریعہ اسلام کی روح قائم کی گئی، ہمارے ذریعہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی روح قائم کی گئی، ہمارے ذریعہ نماز، روزہ، حج، زکوۃ کی حقیقت قائم کی گئی حتی کہ ہمارے ذریعہ تمام احکام اسلامی کی حقیقت قائم کی گئی۔ ۲۰ اب اگر ہمارا دعوئی تو یہ ہو لیکن ہماری نماز ہمارا روزہ ہماری زکوۃ اور ہمارا حج ایساہی ہو جیسا اوروں کا تو یاد رکھو دیسی ہی چیز جو اپنے جیسی چیز سے کم ہو اس سے بھاری نہیں ہو سکتی۔ اگر ترازو کے ایک پلڑے پر مولیاں ہوں اور دوسرے پر بھی مولیاں ہی رکھی جائیں جو کم ہوں تو دونوں پلڑے برابر نہ ہوں گے ہاں اگر دوسری طرف سونا رکھ دیا جائے تو پھر خواہ وہ کم ہو وہی بھاری ہو گا۔ اگر ہماری نمازیں اور ہمارے روزے بھی ویسے ہی نمائشی ہوں جیسے دوسروں کے تو ان کی نمازیں اور روزے وزنی ہوں گے ۔ کیونکہ وہ ہم سے زیادہ ہیں اور ہم تھوڑے ہیں۔ ہاں اگر ہماری نمازوں اور روزوں کی حقیقت اور ہو تب ان سے بھاری ہو سکتے ہیں۔ تھوڑی مٹی زیادہ مٹی سے بھاری نہیں ہو سکتی البتہ تھوڑا سونا زیادہ مٹی سے بھاری ہوتا ہے۔ پس اگر