خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 132 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 132

Aला کرے اور جب جرمن بیڑہ کی ادھر توجہ ہو تو ادھر سے انگریزی جہاز گھس جائیں۔ یہ اسی میل کی دیوار بنی ہوئی تھی اس کے سرے کو توڑنے کی کوشش کی جانی تھی اس کے لئے ایک ایسا جہاز تیار کیا گیا جس کے لئے سب سے زیادہ یقینی موت تھی۔ اس میں کام کرنے کے لئے پھر خاص طور پر آدمی مچنے گئے۔ ان میں سے ایک سپاہی نے اپنے آپ کو پیش کیا جس کی عمر ۱۷ سال کی تھی اس کا دوسرا : س کا دوسرا بھائی افسر تھا اس نے کہا میں قواعد کے لحاظ سے ا سے اپنے آپ کو پیش تو نہیں کر سکتا مگر میں یہ درخواست کرتا ہوں کہ ہماری بوڑھی ماں ہے اگر میرا چھوٹا بھائی اس مہم میں چلا گیا تو وہ خیال کرے گی کہ چھوٹے بھائی کی اس نے کچھ مدد نہ کی اس لئے مجھے بھی اس کام میں حصہ لینے کی اجازت دی جائے تاکہ میں اپنے بھائی کو بچانے کی کوشش کروں۔ اسے اجازت دی گئی۔ اس کے بعد ان کا ایک ماموں زاد بھائی تھا اس نے کہا مجھے ان دونوں کو بچانے کی اجازت دی جائے ۔ اسے بھی اجازت مل گئی۔ آخر وہ جہاز گیا۔ اس وقت کا سارا نظارہ دکھایا گیا خدا کی قدرت وہ تینوں ہی بچ گئے اور راستہ بند کرنے میں بھی کامیاب ہو گئے ۔ 9 اس قسم کی کیفیات جو پیدا ہوتی ہیں ان کے متعلق ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ ان میں لذت بھی ہوتی ہے اور رنج بھی۔ اس شخص کی کیفیت جس نے کہا کہ میرا چھوٹا بھائی جاتا ہے مجھے بھی جانے دیا جائے ورنہ میری ماں مجھ پر افسوس کرے گی جہاں غم پیدا کرتی تھی کہ یہ ایسا موقع ہے جہاں قریباً یقینی موت ہے وہاں خوشی بھی پیدا کرتی تھی کہ میں اپنے فرض کو ادا کرنے جا رہا ہوں اور میں اپنے بھائی کو بچانے کے۔ نے کے لئے آخری کوشش جو کر سکتا تھا اس سے دریغ نہیں کیا۔ پس کامیابیوں اور فتوحات کے ساتھ جو غم اور تکالیف ہوتی ہیں ان میں بھی لذت ہوتی ہے۔ اور وہ قوم جو خدا کی ہو جاتی ہے وہ بھی غموں میں مبتلاء ہوتی ہے بلکہ دوسروں سے بہت زیادہ مبتلاء ہوتی ہے کیونکہ اس کی ذمہ داریاں بہت زیادہ ہوتی ہیں مگر اس کے ساتھ ہی اسے بہت بڑی خوشی اور فرحت بھی ہوتی ہے۔ قرآن کریم میں خدا تعالیٰ رسول کریم ملی ایم کے متعلق فرماتا ہے لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ أَلَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ لا تجھے دنیا کے کفر پر اتنا غم ہے کہ قریب ہے تو اس غم سے ہلاک ہو جائے ۔ گویا خدا تعالیٰ غم کو چھری تصور کر کے فرماتا ہے کہ وہ کاٹتے کاٹتے گردن کے پچھلے چمڑے تک چلی گئی ہے۔ لیکن کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ اگر رسول کریم ملی ایم کو ساری دنیا کی بادشاہت دے کر کہا جاتا کہ آپ اس غم کو جانے دیں تو