خطبات محمود (جلد 1) — Page 117
114 لوگ بھی نبی کے ساتھ اس کی ترقی کے زمانے میں آکر مل جاتے ہیں اور بچوں کی طرح خوشی مناتے ہیں۔ لیکن ان کا یہ خوشی منانا فضول ہوتا ہے کیونکہ وہ جدوجہد اور لذت و سرور جو بھوکا رہنے میں حاصل ہوتی ہے انہوں نے حاصل نہیں کی ہوتی اور یونہی عید میں آکر شامل ہو گئے۔ میں کہتا ہوں کہ اگر عید نہ آتی تو نبی کے بچے متبع لوگ یہی چاہتے کہ ہمیشہ رمضان رہے اور ہمیشہ ہی روزے رکھتے رہیں لیکن خدا کہتا ہے کہ عید آئے گی اور میں عید کو لاؤں گا اور جو روزہ رکھے گا وہ ضرور عید کرے گا۔ پس عید نبیوں کے ظاہری فتوحات اور ان کی ترقیوں کا زمانہ ہے۔ لیکن اس وقت نبی کا وجود ان میں نہیں ہوتا۔ اس وقت مخلص لوگ اور بچے متبع اس کا زمانہ یاد کر کے آنسو بہاتے ہیں۔ چنانچہ ایک شاعر کہتا ہے۔ كُنتَ فَعَمِيَ السَّوَادَ لنَاظِرِي عَلَى النَّاظِرُ مَنْ شَاءَ بعدَكَ فَلْيَمُتْ فَعَلَيْكَ كُنتُ أحَاذِرُ ۔ یعنی اے محمد رسول اللہ صلی اللہ تو میری آنکھ کی پتلی تھا تو مر گیا تو میری آنکھ اندھی ہو گئی۔ اب مجھے کسی کے مرنے کی پروا نہیں۔ میں تو تیرے مرنے سے ہی ڈرتا تھا۔ میں تو تجھے ہی دیکھنا چاہتا تھا۔ یعنی میری آنکھیں رمضان کا چاند ہی دیکھنے کی مشتاق تھیں اور وہ تو تھا۔ اب میری آنکھیں عید کے چاند کو دیکھنا نہیں چاہتیں۔ اسی طرح روایت ہے کہ رسول کریم میں ایم کے وصال کے بعد حضرت عائشہ اس کے سامنے جب کوئی اچھی چیز لائی جاتی۔ تو انہیں افسوس ہوتا۔ چنانچہ ایک دفعہ چھنے ہوئے آٹے کی روٹی لائی گئی۔ آپ جب اسے کھانے بیٹھیں تو آنسو جاری ہو گئے۔ کسی نے پوچھا کہ آپ روتی کیوں ہیں۔ فرمایا ۔ رسول اللہ ملی ایم کے وقت ہمارے پاس چکی نہ ہوتی تھی ہم آٹا پیسنے کی بجائے دانوں کو کوٹ کر روٹی پکاتے تھے۔ لیکن اس میں جو مزا تھا اس چھنے ہوئے آٹے کی روٹی میں نہیں۔ ۱۴، پس مومن تو عید کرتا ہے مگر محض اس لئے کرتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی پیشگوئی پوری ہوئی لیکن حقیقی لذت اور سرور اس کو رمضان میں ہی حاصل ہوتا ہے۔ اس زمانہ میں بھی رمضان کا چاند نکلا - ها۔ اس وقت بہت کم لوگوں نے دیکھا حتی کہ وہ