خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 937 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 937

خطبات محمود ۹۳۷ سال ۱۹۳۸ ء پانچ روپے ایک آنہ دے کر بھی ہو سکتی ہے بلکہ پانچ روپے ایک پیسہ دے کر بھی ہو سکتی ہے اور اگر صرف ایک پیسہ کو زیادتی کی وجہ سے کوئی شخص السَّابِقُونَ الأَوَّلُون میں شامل ہوسکتا ہو تو کیا یہ نادانی نہیں ہوگی کہ دس روپے چندہ دینے والا ہمیشہ دس روپے ہی دیتا رہے یا سو روپے چندہ دینے والا ہمیشہ سور و پیہ ہی دیتا ر ہے اور نہایت معمولی سی زیادتی کر کے وہ اَلسَّابِقُونَ الْأَوَّلُون میں شامل نہ ہو جائے ۔ ہماری جماعت کے ایک دوست ہیں جو نہایت ہی مخلص اور سادہ طبیعت کے ہیں کئی موقعوں پر میں نے ان میں سلسلہ سے اخلاص اور محبت کا تجربہ کیا ہے انہوں نے گزشتہ سال ۱۱۵ روپے چندہ میں دیئے اس سال پھر انہوں نے ۱۱۵ روپے کا وعدہ کیا اس پر میں نے انہیں لکھا کہ آپ بڑی آسانی سے اس سال ۱۱۶ روپے دے کر اَلسَّابِقُونَ الْأَوَّلُون میں شامل ہو سکتے ہیں چنانچہ گو میں نے انہیں ایک روپیہ کی زیادتی کیلئے ہی مشورہ دیا تھا مگر انہوں نے جوش اخلاص میں اپنے وعدہ کو اور زیادہ بڑھا دیا۔ تو بعض لوگ اصل حقیقت کو سمجھے نہیں وہ سمجھتے ہیں شاید اگر ہم نے ایک سال پانچ روپے چندہ میں دیئے ہیں تو دوسرے سال جب تک دس روپے نہیں دیں گے زیادتی نہیں سمجھی جائے گی حالانکہ ہمیں تو ایمان کی زیادتی کا ثبوت چاہئے خواہ وہ ایک پیسہ سے ہو خواہ ایک آنہ سے ہو، خواہ دو آنہ سے ہو، خواہ تین آنہ سے ہو، خواہ چار آ نہ سے ہوا اور خواہ وہ دس بیس یا سو دو سو روپیہ کے ذریعہ سے ہو۔ تو کمی کرنے والوں کی حکمت میری سمجھ میں آجاتی ہے کیونکہ وہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم اتنا بوجھ نہیں اٹھا سکتے اور ہماری مالی حالت اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ ہم زیادتی کریں مگر جو ہر سال یکساں چندہ دیتے ہیں ان کے اس فعل کی حکمت میری سمجھ سے بالا ہے جبکہ وہ نہایت ہی معمولی زیادتی کر کے السَّابِقُونَ الْأَوَّلُون میں شامل ہو سکتے ہیں مثلاً وہ شخص جس نے سات ۔ نے سات سالہ دور میں سے پہلے سال پانچ روپے چندہ دیا ہے وہ اگر ہر سال قاعدہ کے مطابق دس فی صدی کمی کرتا اور آخری تین سالوں میں چالیس فیصدی کمی پر ٹھہر کر دو سال مسلسل چندہ دیتا تو وہ نو روپے بچا تا ہے دس روپے دینے والاسات سال میں اس کمی کے نتیجہ میں اٹھارہ روپے بچاتا ہے، ہمیں روپے دینے والا چھتیس روپے بچاتا ہے اور اگر کوئی سو روپے دینے والا تھا تو وہ سات سال میں ایک سواسی روپے بچاتا ہے ۔