خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 926 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 926

خطبات محمود ۹۲۶ سال ۱۹۳۸ ء کم ہے اور اس اجتماع سے آج ایک یہ فائدہ ہو گیا ہے کہ دوستوں کو یہ دیکھنے کا موقع مل گیا ہے۔ باقی مساجد کے متعلق تو یہ بھی احتمال ہوتا ہے کہ معلوم نہیں کب تک ان کی آبادی رہے لیکن یہ تو پیشگوئیوں کے ماتحت ہے اور جس طرح خانہ کعبہ کے متعلق یہ کبھی خیال نہیں کیا جا سکتا کہ وہ کبھی غیر آباد ہو اسی طرح اس کے متعلق بھی یہ خیال نہیں کیا جا سکتا کہ کبھی اس کی آبادی میں فرق جاسکتا کہ کہ بھی اس کی آبادی میں فر آجائے گا اور اس طرح جن لوگوں کا روپیہ اس کی تعمیر پر خرچ ہو گا وہ دائمی ثواب کے مستحق ہوں ہوگا دائی گے اور اس طرح یہ خاص طور پر ثواب حاصل کرنے کا موقع ہے اور موجودہ ضرورت کے لئے تو چند ہزار روپیہ بھی کافی تھا اس لئے کوئی وجہ نہ تھی کہ اس میں کمی رہ جاتی اور عمارت بیچ ہی میں چھوڑنی پڑتی ۔ ۔ میرا خیال ہے کہ کارکنوں نے اس بات کو اچھی طرح جماعت کے سامنے رکھا نہیں کہ یہ ایک دائمی ثواب حاصل کرنے کا موقع ہے اور اس میں جو ایک پیسہ بھی لگایا جائے گا وہ قیامت تک کے لئے ثواب کا موجب ہوگا ۔ باقی کسی مسجد میں دس ہزار روپیہ لگا کر بھی کوئی شخص یہ یقینی طور پر نہیں کہہ سکتا کہ اس سے بنی ہوئی مسجد میں ہمیشہ خدا تعالیٰ کی عبادت ہوتی رہے گی ۔ بعض مساجد کو دشمن مٹا دیتے ہیں ۔ لوگ اس جگہ مکان بنا لیتے ہیں مگر یہ مسجد جسے خدا تعالیٰ کے حکم کے ماتحت اہمیت دی گئی اور جس کے ساتھ للّہی تعلق رکھنے والی ایک ایسی جماعت ہے جس کے متعلق خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ اسے تمام دنیا میں غلبہ حاصل ہو گا اور جس کی تعداد آج لاکھوں ہے مگر کسی وقت کروڑوں اور اربوں ہوگی اور جو اپنے خون کا آخری قطرہ اس کی حفاظت کے لئے گرادینے پر ہمیشہ تیار رہے گی ۔ آج بھی گو ہم کمزور ہیں مگر کوئی طاقت ور سے طاقت ور حکومت بھی بغیر اس کے کہ اس کا دل دھڑ کے یہ خیال بھی نہیں کر سکتی کہ اس کی طرف نگاہ اٹھا کر دیکھے ۔ احمدی جماعت کا بچہ بچہ قربان ہو جائے گا مگر اس مسجد کی تقدیس میں فرق نہ آنے دے گا اور کبھی وہ زمانہ آنے والا ہے کہ کوئی غیر مسلم حکومت بھی اس علاقہ پر اگر حملہ کرنے لگے گی تو اس سے پہلے یہ اعلان کرنا پڑیگا کہ جماعت احمدیہ کے جذبات کا پورا پورا خیال رکھا جائے گا اور ایسے اعلان کے بغیر اسے علاقہ کی طرف بڑھنے کی جرات نہ ہوگی ۔ بچپن میں بوڑھی عورتیں قصے سنایا کرتی تھیں جن میں سے ایک فقرہ مجھے اب تک یاد ہے کہ